رسائی کے لنکس

مصر: مستقبل کا ترکی یا پاکستان؟

  • واشنگٹن

منتخب صدر محمد مرسی فوجی دستے سے سلامی لیتے ہوئے

منتخب صدر محمد مرسی فوجی دستے سے سلامی لیتے ہوئے

مرسی نے مصرکے پہلے منتخب صدرکاحلف اٹھا لیا ہے۔ اس طرح، وہ تحریک بظاہر اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی ہے جس نے حسنی مبارک کو تین عشروں پر محیط اقتدار کے بعد مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا تھا

اخوان المسلمین کے راہنما محمد مرسی نے مصرکے پہلے منتخب صدرکی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے اور اس طرح وہ تحریک بظاہر اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی ہے جس نے صدر حسنی مبارک کو تین عشروں پر محیط اقتدار کے بعد مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔

انتخابات کے پس منظر میں کیا ملک ایک حقیقی سیاسی عمل کو قبول کر چکا ہے؟ اسلام پسند صدر مرسی کی فتح اہم مگر فوج کے حمایت یافتہ اور سابق صدر حسنی مبارک کے وزیراعظم احمد شفیق کے حق میں پڑنے والے خاطر خواہ ووٹ کس جانب اشارہ کرتے ہیں؟ صدر مرسی کے اس بیان کے پس منظر میں کہ وہ ملک کو بنیاد پرست ریاست نہیں بننے دیں گے، کیا اس بات کی توقع رکھی جا سکتی ہے کہ مصرکا مستقبل کا رول ماڈل ترکی ہے جو مشرق و مغرب، دونوں اطراف کے ممالک میں پسندیدہ خیال کیا جاتا ہے؟ فوج کاآئینی کردار صدر مرسی کے لیے کیا چینلجز پیدا کرے گا اور اسرائیل و امریکہ کے ساتھ تعلقات کی جہتیں کیا ہوں گی؟ اور اگر اخوان المسلمین ایک حکمران جماعت کی حیثیت سےمغربی دنیا کے ساتھ بہتر ورکنگ ریلیشن شپ استوار کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس کے دیگر مسلم ممالک میں مذہبی جماعتوں کی سیاست پر کیا اثرات ہوں گے؟

وائس آف امریکہ کے پروگرام ’اِن دا نیوز میں‘ اِن سوالات کا جائزہ لیا گیا۔

کالم نگار عامر ہاشم خاکوانی، جو ماضی قریب میں اخوان المسلمین کی لیڈرشپ کا انٹرویو کرچکے ہیں، کہتے ہیں کہ اخوان المسلمین ایک انتہا پسند جماعت نہیں ہے۔ اور اس کی قیادت یہ باورکراتی ہے کہ وہ انقلابی بھی نہیں ہے بلکہ وہ تو اصلاح پسند ہیں جو ملک کے سیاسی و سماجی نظام میں مناسب تبدیلیاں چاہتے ہیں۔ اُن کے بقول، اگرچہ محمد مرسی کو کئی ایک چینلنجز کا سامنا ہو گا لیکن اگر وہ مغرب کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کرتے اور توازن کے ساتھ ذمہ داریاں نبھاتے ہیں تو توقع رکھی جا سکتی ہے کہ مصر، مسلم دنیا میں ترکی ماڈل کا ایک اور ملک ثابت ہو جو دائیں جانب جھکاوٴ رکھتا ہے مگرکسی دوسرے ملک کے لیے خطرہ نہیں سمجھا جاتا۔

عامرہاشمی کے مطابق صدر مرسی کی انتخابی مہم میں ترک وزیراعظم رجب طیب اردوان کو ایک رول ماڈل کے طور پرپیش بھی کیا جاتا رہا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اخوان المسلمین کا سیاسی ماڈل، پاکستان سمیت دنیا کے کئی ایک مسلمان ملکوں کی مذہبی جماعتوں پر اثرانداز ہوگا۔

پاکستان کے سابق سفیرطیب صدیقی جومصر میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، کہتے ہیں کہ مصر کے اندر فوج کا عمل دخل بے حد زیادہ ہے اور آئین میں بھی اس کی گنجائش رکھ دی گئی ہے۔ لہذا، صدر مرسی کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکیں گے خاص طور پر خارجہ پالیسی میں اورمحکمہ خارجہ جوصدر مبارک کے وقت سے ہی فوج کے زیراثر رہا ہے، اب بھی وہی خارجہ امور کی وضع قطع کے بارے میں فیصلے کرے گا۔ اس طرح مصر، ان کے بقول، ترکی کی نسبت پاکستان سے زیادہ مشابہہ ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسرائیل اور امریکہ کے لیے مصر کی پالیسی میں بھی کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی کہ صدر مورسی اس پر بڑے فیصلوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ تاہم، طیب صدیقی سمجھتے ہیں کہ دو سے تین ماہ کے اندر فوج اور سویلین قیادت کے درمیان اختلافات سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔

’عرب نیوز‘ سے وابستہ صحافی اور تجزیہ کار سراج وہاب کہتے ہیں کہ مصر کے عوام کے لیے ایک منتخب صدر کو اپنے درمیان دیکھنا ایک منفرد اور خوشگوارتجربہ رہا۔ وہ کہتے ہیں کہ صدر مرسی کی کوشش ہو گی کہ وہ خارجہ معاملات کی بجائے ابتدائی دنوں میں داخلی مسائل پر توجہ دیں۔
XS
SM
MD
LG