رسائی کے لنکس

بھارت میں جون سے ستمبر تک موسم گرما کی بارشیں ہوتی ہیں اور ملک کی تقریباً 60 فی صد زرعی زمین کا انحصار انہی بارشوں پر ہوتا ہے۔

بھارت میں محکمہ موسمیات کے عہدے داروں نے کہاہے کہ اس سال ملک کے زیادہ تر حصوں میں معمول سے 30 فی صد کم بارشیں ہونے کی توقع ہے۔

بارشوں میں کمی کے باعث بھارت کے اہم زرعی علاقوں میں موسم گرما کی فصلیں مثلاً چاول، کپاس اور گنا وغیرہ کی بیجائی میں تاخیر ہورہی ہے۔

موسمیات کے ماہرین اس ماہ کچھ بارشوں کی توقع کررہے ہیں ، جس سے ان کے مطابق خشک موسم کی شدت کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ملک کی تقریباً 60 فی صد زرعی زمین کا انحصار انہی بارشوں پر ہوتا ہے۔



لیکن حکومتی عہدے دار ، مون سون کے موسم میں کم بارشوں کی صورت میں حالات کے مقابلے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

بھارتی پلاننگ کمشن نے سربراہ مونتک سنگھ اہلووالیہ کا کہناہے کہ زراعت کا محکمہ ایسی کسی بھی صورت حال کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے۔

بھارت میں جون سے ستمبر تک موسم گرما کی بارشیں ہوتی ہیں اور ملک کی تقریباً 60 فی صد زرعی زمین کا انحصار انہی بارشوں پر ہوتا ہے۔

بھارت کپاس، چینی ، گندم اور چاول پیدا کرنے والا دنیا کادوسرا سب سے بڑا ملک ہے، لیکن آبادی کے لحاظ بھی چین کے بعد وہ دوسرے نمبر پرآتا ہے۔



ماہر معاشیات ڈی ایچ پائی پانندیکر کہتے ہیں کہ مون سون میں بارشوں کی کمی کا مسئلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آرہاہے جب حکومت پہلے ہی افراط زرکے مسئلے کا مقابلہ کررہی ہے۔

لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مہنگائی کے گرداب میں پھنسے ہوئے صارفین کی جانب بارشوں کی کمی کے اثرات اس لیے منتقل نہیں ہوں گے کیونکہ گذشتہ سال بھارت میں ریکارڈ زرعی پیدا وار ہوئی تھی۔

اگرچہ بھارت کی کل معیشت کا زراعت پر انحصار 15 فی صد ہے۔لیکن بارشوں میں کمی بھارتی معاشرے پر اس لیے گہرے اثرات ڈال سکتی ہے کیونکہ ملک کی دو تہائی آبادی کا تعلق کسی نہ کسی حوالے سے زراعت کے شعبے سے ہے۔
XS
SM
MD
LG