رسائی کے لنکس

نئے قانون کے تحت سرکاری عہدے داروں کے کام کی انجام دہی کے سلسلے میں کیے گئے امور توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آئیں گے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی نے پیر کی شب توہینِ عدالت کے ترمیمی بل کی منظوری دی، جس کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد اداروں کو مضبوط بنانا ہے اور اس کا نشانہ عدلیہ نہیں۔

حزب اختلاف کی طرف سے شدید احتجاج کے باوجود وزیر قانون فاروق حمید نائیک نے اسپیکر قومی اسمبلی سے معمول کے قواعد معطل کرنے کی درخواست کرتے ہوئے توہین عدالت ترمیمی بل 2012ء ایوان میں پیش کیا۔

اس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ توہین کا قانون عدالتی اختیار کا ایک امتزاج ہے تاکہ وہ اپنی توہین پر سزا دے سکے اور جمہوری نظام میں شہریوں کا حق ہے کہ وہ عدلیہ کے فیصلوں پر مناسب تبصرے اور تنقید کریں۔ لہذا وزیر قانون کے بقول یہ ضروری ہے کہ جہاں کہیں قانون توہین کے لیے سزا دے تو مبینہ ملزم کو منصفانہ سماعت اور مؤثر اپیل کا حق ملنا چاہیئے۔

حسب توقع قومی اسمبلی کے ارکان نےاس نئے قانون کی کثرت رائے سے منظوری دے دی کیونکہ پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کو ایوان زیریں میں واضح اکثریت حاصل ہے۔

اس بل پر بحث کے دوران مسلم لیگ (ن) کے ارکان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت اس قانون کے ذریعے عدلیہ کے اختیارات کو محدود کرنا چاہتی ہے اور اس کا بنیادی مقصد وزیر اعظم کا تحفظ ہے، جنھیں سپریم کورٹ نے 12 جولائی کو یہ وضاحت کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے کہ وہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کی بحالی کے لیے سوئس حکام کو خط لکھیں گے یا نہیں۔

ایوان سے خطاب میں وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف نے اس تاثر کی نفی کی کہ توہین عدالت کا قانون کسی خاص مقصد کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔

نئے قانون کے تحت سرکاری عہدے داروں کے کام کی انجام دہی کے سلسلے میں کیے گئے امور توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آئیں گے جب کہ عدالتوں کے عمومی کام سے متعلق مناسب تبصرہ جو مفاد عامہ اور مہذب زبان میں نیک نیتی سے کیا گیا ہے وہ بھی توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آئے گا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ عدالت کے احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے کے ضمن میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے جرم میں نااہل قرار دے دیا تھا اور ان کی جگہ وزارت عظمیٰ کامنصب سنبھالنے والے راجہ پرویز اشرف کو بھی 12 جولائی کواسی صورت حال کا سامنا ہے۔

ماہرین کا کہناہے کہ عدالت عظمیٰ اس نئے قانون پر نظر ثانی کا اختیار رکھتی ہے۔ کچھ دن قبل خود چیف جسٹس افتخارچوہدری یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ سپریم کورٹ آئین کے منافی کسی بھی قانون کو منسوخ کرسکتی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG