رسائی کے لنکس

افغانستان: صحافت اور اظہار کی آزادی کے تحفظ کا عزم

  • واشنگٹن

گزشتہ ماہ افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے مشن نے سو کے قریب صحافیوں اور میڈیا تنظیموں کے نمائندوں کو کابل میں مسودہ قانون پر غور کیلئے اکٹھا کیا، جس کا مقصد یہ بھی تھا کہ افغان حکومت کو پیش کرنے کیلئے مشترکہ تجاویز پر اتفاق حاصل کرنا تھا۔

افغانستان کے اطلاعات وثقافت کے وزیر نے کہا ہے کہ ان کی حکومت بین الاقوامی فورسز کے ملک سے جانے کے بعد بھی آزادیء اظہاراور آزادیء صحافت کا مکمل تحفظ کرے گی۔

وی او اے افغان سروس سے ایک انٹرویو کے دوران سعید مخدوم رہین نے کہا کہ میڈیا کی آزادی کے ایک نئے قانون کا مسودہ یہ مقصد حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔ نیا قانون حکومت کے زیرٍِ انتظام ریڈیو ٹیلی وژن افغانستان اور باختر نیوز ایجنسیوں کو پبلک براڈکاسٹر بنائے گا۔ اس کے بعد یہ ایجنسیاں حکومت اور وزارتِ اطلاعات و ثقافت کے کنٹرول سے آزاد ہوں گی۔

مگر ہیومن رائٹس واچ اور میڈیا تنظیموں نے اس قانون کے مسودے کی متعدد شقوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ان تحفظات میں میڈیا سے متعلق مقدمات کی سماعت کیلئے ایک سپیشل ٹرابیونل کے قیام اور صحافتی اداروں پرنظر رکھنے کیلئے ایک نگران ادارے کا قیام شامل ہیں۔یہ قانون غیرملکی نشریات کو بھی محدود کر دے گا۔

گزشتہ ماہ افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے مشن نے سو کے قریب صحافیوں اور میڈیا تنظیموں کے نمائندوں کو کابل میں مسودہ قانون پر غور کیلئے اکٹھا کیا۔ اجلاس کا ایک اور مقصد یہ بھی تھا کہ افغان حکومت کو پیش کرنے کیلئے مشترکہ تجاویز پر اتفاق حاصل کرنا تھا۔

افغان وزارتِ اطلاعات و ثقافت کے ایک افسرنے کہا ہے کہ قانون کے بارے میں یہ خدشات حقائق پر مبنی نہیں اور یہ قانون زیادہ آزادی کی جانب ایک قدم ہے۔

وی اور اے کے ساتھ ایک انٹرویو میں اطلاعات و ثقافت کے وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ یہ قانون ابھی ایک مسودے کی شکل میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس میں کوئی ایسی بات ہے جو آزادیء اظہار پر منفی اثر ڈالے گی ، تو ہم اس کو دور کر سکتے ہیں۔

انہوں نے صحافیوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے تجاویز کو خوش آمدید کہا۔
تازہ ترین ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں رپورٹر ودآؤٹ بارڈرز نے 179 ممالک میں افغانستان کو 150واں درجہ دیا ہے۔ صحافتی آزادی کیلئے کام کرنے والی اس تنظیم نے انتہاپسندوں اور سیاسی گروہوں کی جانب سے صحافیوں کو تشدد کی دھمکیوں کو اس کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا ۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG