رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: فلسطینی مقبوضہ علاقے اور امریکہ میں سیاسی اشتہار ی مہم

  • صلاح الدین
  • واشنگٹن

مغربی کنارے کی یہودی بستیاں

مغربی کنارے کی یہودی بستیاں

اخبار کہتا ہے کہ دنیا کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ 1967 کی جنگ میں جو علاقہ اسرائیل نے اُردن سے ہتھیا لیا تھا، وہ مقبوضہ علاقہ ہے اور اس پر کی گئی تعمیرات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

نیو یارک ٹائمز ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ فلسطینی عوام نے اپنی خود مختار ریاست کے قیام کے لئے جو اُمّیدیں باندھ رکھی تھیں، وُہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ معدُوم ہوتی جار ہی ہیں۔ کیونکہ اسرائیل مغربی کنارے پر نئی یہودی بستیاں قائم کرتا جارہا ہے اور مشرقی یروشلم میں بھی ، جسے فلسطینی اپنا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔ اسرائیل مزید علاقوں پر اپنا قبضہ جماتا جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک پائیدار امن کی بہترین ضمانت ، یعنی امن مذاکرات کا عمل کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔

لیکن اخبار کی نظر میں اس عمل کو ایک اور تباہ کُن دھچکہ پیر کے روز اسرائیلی حکومت کے مقرر کردہ کمیشن کی اس رپورٹ سے پہنچا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مغربی کنارے پر45 سال پر محیط موجودگی قبضہ نہیں ہے۔ اور کمیشن نے وہاں بسنے کے ریاست کے قانونی حق کی توثیق کرتے ہوئے سفارش کی ہے کہ حکومت وہاں بیسیوں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کی اجازت دےدے۔اس میں اسرائیل فوج کا وہ اختیار چھیننے کی بھی سفارش کی گئی ہے،جس کے تحت وہ فلسطینیوں کی زمینوں پر قابض اسرائیلی آباد کاروں کو بے دخل کر سکتی ہے۔

اخبار کہتا ہے کہ اگرچہ کمیشن کی سفارشات لازمی نہیں ہیں ۔ وہ ناقص قانون ہیں۔ ناقص پالیسی اور ناقص سیاست بھی اور دنیا کا بیشتر حصّہ سمجھتا ہے کہ 1967 کی جنگ میں جو علاقہ اسرائیل نے اُردن سے ہتھیا لیا تھا، وہ مقبوضہ علاقہ ہے اور اس پر کی گئی تعمیرات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔عالمی عدالت یہ فیصلہ 2004 میں دے چُکی ہے۔اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر 242 کی رُو سے اسرائیلی فوج کو وہ علاقے خالی کرنے ہونگے، جن پر اس نے حالیہ جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔ اخبار کہتا ہےکہ امریکی محکمہ خارجہ نے بجا طور پر اسرائیلی کمیشن کی سفارشات کو ہدف تنقید بنایا ہے اور کہا ہے کہ ہم اسرائیل کی بستیاں تعمیر کرنے اور ان بستیوں کو قانونی حیثیت دینے کی مخالفت کرتے ہیں، اور یہ کہ جب وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اگلے ہفتے اسرائیل کا دورہ کریں گی تو انہیں یہ پیغام وہاں پہنچانے کا موقع ملے گا۔

امریکہ کے اس صدارتی انتخابی سال میں ملک کی دو بڑی سیاسی پارٹیوں کی انتخابی اشتہار بازی عروج کو پہنچ گئی ہےاور جیسا کہ لاس انجلس ٹائمز کے تجزیہ نگار ڈائیل مک مینس، کہتے ہیں۔ اگرچہ صدارتی انتخابات میں ابھی چار ماہ باقی ہیں، لیکن کولمبس، اوہا یو، اور اورلینڈو جیسے شہروں میں ، جن کا سیاسی جُھکاؤ ایک پارٹی سے بدل کر دُوسری پارٹی کی طر ف ہو سکتا ہے۔ ٹیلی وژن سٹیشنوں کے پاس اب مزید اشتہار چلانے کی گنجائش نہیں رہی ۔ ایک اندازے کے مطابق سیاسی اشتہار بازی پر آنے والی لاگت دس ارب ڈالر سے سے تجاوز کر جائےگی ۔سنہ 2008 کے انتخابات میں اس مد میں سات ارب ڈالر کے لگ بھگ رقم خرچ کی گئی تھی ۔

کالم نگار کے بقول کسی کو نہیں معلوم کہ اُس نئی اشتہار بازی پر کُل کتنا خرچ آئے گا جو خود مختار کمیٹیوں کی شکل میں معرض وجود میں آئی ہیں۔ یہ خود مختار کمیٹیاں کتنا چندہ اکٹھا کر سکتی ہیں ۔ اُس کا کوئی حدّد حساب نہیں ہے۔ اور پیشتر چندہ دینے والوں کے ناموں کابھی انکشاف نہیں کیا جاتا۔

مک مے نس کہتے ہیں ، کہ اس انتخابی سال میں امریکہ دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک تو وُہ حصّہ جس کی سیاسی وفاداریوں میں کوئی فرق نہیں آیا۔ یعنی وُہ یا تو ڈیموکریٹوں کے ساتھ ہیں ، یا پھر ری پبلکنوں کے حامی۔ پھر وہ دوسرا امریکہ ہے ۔ جس میں بارہ ریاستیں شامل ہیں۔ جو نہ ڈیموکریٹک کیمپ میں ہیں اور نہ ہی ری پبلکن کیمپ میں۔ اور سوٕنگ سٹیٹس کہلاتی ہیں۔ اور یہی وُہ ریاستیں ہیں جو بالآخر امریکی صدارتی انتخابات کا حتمی فیصلہ کرتی ہیں ۔ اور یہی وہ ریاستیں ہیں ۔ جن میں انتخابی اشتہارات کی بھر مار ہوتی ہے۔ باقیماندہ ریاستوں میں ان اشتہاروں کا اتنا زور نہیں۔

اخبار سین فرانسسکو کرانیکل نے ٹیکسوں سے متعلق صدر اوباما کی تجاویز کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس لگانے میں انصاف اور توازن برتنا چاہئےاور اس کے ساتھ ساتھ ان کے مستقبل کا رُجحان کا بھی اندازہ ہونا چاہئے۔ چنانچہ صدر اوباما اس مقصد سے متوسط طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنا چاہتے ہیں اور صاحب ثروت لوگوں کا بڑھانا چاہتے ہیں۔صدر اوباما2001 کی ٹیکس کی چھوٹ مزید ایک سال بڑھانا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ شرط یہ ہوگی کہ یہ چھوٹ ان کے لئے ہوگی جن کی آمدنی ڈھائی لاکھ ڈالر سالانہ سے کم ہو۔ لیکن ان کے لئے نہیں جو اس سے زیادہ کماتے ہوں ․ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس طرح قوم کی صرف 2 فی صد آبادی یعنی متمول ترین حصّے پر ٹیکسوں کا سب سے زیادہ بوجھ پڑے گا۔ لیکن ری پبلکن اس سے اتفاق نہیں کرتے ۔ ان کی منظق یہ ہے کہ اس سے چھوٹے چھوٹے تاجر متاثّر ہونگے۔
XS
SM
MD
LG