رسائی کے لنکس

مجوزہ عراقی بل آزادی اظہار کی نفی کرتا ہے، ہیومن رائٹس واچ

  • واشنگٹن

Human Rights Watch

Human Rights Watch

ہیومن رائٹس واچ کا کہناہے کہ اس بل سے عراقی حکام کے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار آجائے گا جسے وہ اپنے مخالفین کو اور بالخصوص انٹرنیٹ پر مخالفانہ مواد کچلنے کے لیے استعمال کرسکیں گے۔

انسانی حقوق کی ایک معروف تنظیم نے کہاہے کہ عراق کے ایک مسودہ قانون میں آزادی اظہار پر پابندی کی جو تجویز دی گئی ہے وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور وہ صحافیوں ، آواز بلندکرنے والوں اور انسانی حقوق کے پرامن کارکنوں کے لیے ایک خطرہ ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیاہےکہ سائبر کرائمز سے متعلق قانون میں ایسی مبہم دفعات شامل کی گئیں ہیں جو عراقی حکام کو ایسے کسی اظہار خیال پر سزا دینے کا اختیار دیتی ہیں جس کے بارے میں وہ یہ سمجھیں کہ وہ حکومت ، معاشرے یا مذہبی مفاد کے خلاف ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے عراقی پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ نظرثانی کرکے انسانی حقوق پر پابندیوں سے متعلق دفعات کو خارج کیے بغیر اس قانون کی منظوری نہ دے۔

انسانی حقوق کے مشرق وسطیٰ امور سے متعلق ایک ماہر جو سٹارک کا کہناہے کہ اس بل سے عراقی حکام کے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار آجائے گا جسے وہ اپنے مخالفین کو اور بالخصوص انٹرنیٹ پر مخالفانہ مواد کچلنے کے لیے استعمال کرسکیں گے۔

ان کا کہناتھا کہ عراقی صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن معلومات کی ترسیل اور بحث مباحثوں کے لیےانٹرنیٹ کا بڑے پیمانے پر استعمال کرتے ہیں۔

اسٹارک کا یہ بھی کہناتھا کہ عراقی قانون ساز مجوزہ بل سے جس طرح نمٹیں گے اس سے دنیا کو یہ پیغام ملے گا کہ وہ عراق کو کس طرح کا ملک بنانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ یاتو دبانے کی پالیسی کاساتھ دے سکتے ہیں یاپھر وہ انسانی حقوق کا احترام کرنے والے معاشرے کے ساتھ کندھا ملا کر کھڑے ہوسکتے ہیں ۔
XS
SM
MD
LG