رسائی کے لنکس

کاروبار یا دلچسپ سیاحتی تفریح گاہیں؟

  • بہجت گیلانی
  • واشنگٹن

ملک کے اندر سفر کرتے ہوئے کئی روز لگ جایا کرتے تھے اور ڈرائیور اور ان کے خاندان یکسانیت سے بچنے کے لئے کسی نہ کسی نئی چیز کی تلاش میں رہتے تھے۔ اور یہی وجہ تھی کہ تاجر اور کاروباری افراد نے جا بجا چھوٹے چھوٹے تفریحی پارک اور ریستوران بنا دئے تھے

بیسویں صدی کے پہلے نصف حصے میں امریکہ کی ریاستی حکومتوں نے امریکی لوگوں میں گاڑیاں چلانے کے بڑھتے شوق کو دیکھتے ہوئے بڑی بڑی شاہراہوں یعنی ہائی ویز کا جال بچھا دیا ۔

ان سڑکوں کا آج کی کشادہ اور انتہائی تیز رفتار سڑکوں سے تو کوئی مقابلہ ہی نہ تھا کیونکہ وہ تو محض دو رویہ سڑکیں تھیں جو ہر چھوٹے قصبے اور بڑے شہر سے گزرتی تھیں۔

آنلی اِن امریکہ: ٹیڈ لینڈفیئر کا بلاگ

ملک کے اندر سفر کرتے ہوئے کئی روز لگ جایا کرتے تھے اور ڈرائیور اور ان کے خاندان یکسانیت سے بچنے کے لئے کسی نہ کسی نئی چیز کی تلاش میں رہتے تھے۔ اور یہی وجہ تھی کہ تاجر اور کاروباری افراد نے جا بجا چھوٹے چھوٹے تفریحی پارک اور ریستوران بنا دئے تھے پھر ’مام اینڈ پاپ موٹلز‘ بھی تھے جنھیں موٹر کورٹس کا نام دیا جاتا تھا ۔اس کے علاوہ سنیک فارمز، غاریں، چھوٹے چھوٹے چڑیا گھر اور دوسری قابل کشش دلچسپیاں بھی قائم کر دی گئ تھیں ۔ ان میں سے تقریبا ًہر چیز نجی طور پر چلائی جاتی تھی اور ذاتی ملکیت تھی۔



بعض مالکان تو سچ مچ بے حد جدت پسند تھے اور انہوں نے اپنے اپنے کاروباروں کو دلچسپ سیاحتی تفریح گاہیں بنا دیا جیسے دیو ہیکل کافی پاٹس یا پھر بڑے بڑے ھیمبر گرز، پن چکیاں، ریل روڈ مسافر گاڑیاں اور بحری جہاز تک بنے دیکھے جا سکتے تھے ان سڑکوں کے کنارے کنارے۔


اچھا پھر صرف یہ سائن ہی جدت کا اظہار نہیں تھے بلکہ پوری پوری عمارتیں مختلف شکلوں کی بنائی گئیں جیسے ایک مشہور نرسری راہیم کے اونچی ایڑھی والے جوتے کی شکل کی پوری عمارت۔پنسلوانیا میں Everett کے قریب ایک تاجر نے آئس کریم کی دوکان کون آئس کریم کی شکل میں بنائی، اور اس کے اوپر چاکلیٹ اور چیری کی ٹاپنگ بھی لگائی۔ کہیں کہیں آپ ڈونٹ ، لائٹ ہاوس، ہوائی جہاز کی شکل میں بنی عمارتیں دیکھ سکتے ہیں۔

لیکن، اب جب کہ تیز رفتار شاہراہیں ڈرائیوروں کو ان دو رویہ سڑکوں سے دور کھینچتی ہیں اور ٹریفک کو جگہ جگہ رکنا پڑتا ہے تو ایسے میں پرانی دلچسپ یادگاریں بھی ختم ہو رہی ہیں۔اور ایک بات اب اور بھی تو سامنے آئی ہے اور وہ یہ کہ اس نئے دور میں ہمیں ایک طرح کی چیزوں کی عادت ہو گئی ہے۔


جیسے اگر ہم Wyoming میں کینٹکی چکن کا سائن دیکھتے ھیں تو سمجھ جاتے ہیں کہ اس کا ذائقہ ویسا ہی ہو گا جیسے کہ انڈیانا میں لیکن اگر سڑک پر ایک چکن کی شکل کا ریستوران نظر آ جائے تو شائد ہم اس میں جانے کی کوشش نہ کریں یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہاں چکن مل سکتا ہے۔اور اگر کھانا اچھا بھی ہو تو بھی سروس کینٹکی کی طرح نہیں ہو گی۔

لیکن پھر بھی ابھی کچھ پرانی جگہیں باقی ہیں لیکن سارے کاروبار باقی نہیں رہے۔کئی ایسی جگہوں کو ختم کر دیا گیا ہےلیکن آج بھی کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو ایسی جگہوں پر گئے اور آج بھی ان کی یاد ان کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہے۔
XS
SM
MD
LG