رسائی کے لنکس

پاکستانی امریکنز کی تعداد میں دوگنا اضافہ

  • جمیل اختر
  • واشنگٹن

Pakistan day in USA-2

Pakistan day in USA-2

2000ء سے 2010ءکے دوران امریکہ میں بنگلہ دیشیوں کی تعداد میں 157فی صد جب کہ پاکستانیوں کی تعداد 100فی صد کی رفتار سے بڑھی ۔ اس کے مقابلے میں بھارتی نژاد باشندوں میں یہ اضافہ68 فی صد کی شرح سے ہوا۔

یہ خبر دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ امریکہ میں پاکستانی نژاد امریکیوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ایک حالیہ مطالعاتی جائزے سے پتا چلا ہے کہ آبادی میں اضافے کی رفتار کے لحاظ سے پاکستانی دوسرے نمبر پر ہیں جب کہ مجموعی طورپر وہ ساتویں بڑی ایشیائی کمیونٹی کا درجہ رکھتے ہیں۔

امریکی تھینک ٹینک پیوریسرچ سینٹر کے ایک مطالعاتی جائزے میں کہا گیا ہے کہ 2000ء اور 2010 ء کے دوران پاکستانی امریکنز کی تعداد میں دوگنا سے بھی زیادہ اضافہ ہواہے۔جب کہ یہ وہ عرصہ ہے جب نائین الیون کے دہشت گرد حملوں کے بعد مسلمان اور بالحضوص پاکستانی شدید دباؤ میں تھے۔

پیوریسرچ سینٹر نے یہ اعدادوشمار community of contrasts: Asian American in the United States-2011 کے عنوان سے اپنے حالیہ مطالعاتی جائزے میں فراہم کیے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2000ء سے 2010ء کے دوران امریکہ میں بنگلہ دیشیوں کی تعداد میں 157فی صد جب کہ پاکستانیوں کی تعداد 100فی صد کی رفتار سے بڑھی ۔ اس کے مقابلے میں بھارتی نژاد باشندوں میں یہ اضافہ68 فی صد کی شرح سے ہوا۔

پیوریسرچ سینٹر کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی نژاد امریکیوں کی تعداد چارلاکھ سے زیادہ ہے۔


مختلف ممالک سے ترک وطن کرکے امریکہ میں آباد ہونے والے افراد پر کی جانے والی تحقیق کے نتائج بڑے حیران کن ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2007ء اور 2009ء کے دوران امریکی شہری بننے والے پاکستانیوں کی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ تھی جب کہ اس عرصے میں مزید 50 ہزار پاکستانی امریکی شہریت حاصل کرنے کے اہل ہوچکے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان دوبرسوں کے دوران جو پاکستانی امریکی شہری بنے ان میں سے 57 فی صد ایسے افراد تھے جو امریکہ سے باہر کسی دوسرے ملک میں پیدا ہوئے تھے۔
مطالعاتی جائزے کے اعدادوشمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس وقت جن پاکستانیوں کے پاس امریکی شہریت موجود ہے ، ان میں سے 65 فی صد امریکہ میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔

2010ء میں امریکہ کے مستقل رہائشی کا درجہ حاصل کرنے والے پاکستانیوں میں صرف 16 فی صد ایسے تھے جنہیں کسی کاروباری ادارے نے ملازمت کی بنا پر اسپانسر کیا تھا، جب کہ باقی ماندہ 84 فی افراد اپنے قریبی رشتے داروں کی اسپانسر شپ حاصل کرنے کے بعد امریکی گرین کارڈ کے حق دار ٹہرے تھے۔

گرین گارڈ ملنے کے بعد امریکی شہریت حاصل کرنے کے لیے مزید پانچ سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے اور اس دوران انہیں اپنے قول و فعل سے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ پرامن اور ذمہ دار شہری ہیں۔


یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ بھارت جو آبادی کے لحاظ سے پاکستان سے تقربیاً چھ گنا بڑا ملک ہے، اس کی امریکن کمیونٹی میں اضافے کی رقتار زیر مطالعہ مدت کے دوران پاکستان سے کم رہی اور پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق اس عرصے کے دوران امریکی شہریت حاصل کرنے والے بھارتی تیسرا بڑا گروپ بن کرسامنے آئے۔

تاہم بھارتی نژاد امریکی ، اس ملک میں آباد دوسری تمام کمیونٹیز سے اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ ان کی آمدنی کا اوسط سب سے زیادہ ہے۔ ایک بھارتی امریکی گھرانے کی سالانہ اوسط آمدنی کا تخمینہ 88 ہزار امریکی ڈالر ہے جب کہ امریکی گھرانوں کی سالانہ اوسط آمدنی 66 ہزار ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ آمدنی کے لحاظ سے پاکستانی امریکن ، بھارتی کمیوٹنی سے کہیں پیچھے ہیں اور2007ء اور 2009ء کے عرصے کے دوران ان کی فی گھرانہ سالانہ اوسط آمدنی 25 ہزار ڈالر سے بھی کم تھی۔

بھارتی نژاد امریکیوں کی آمدنی کی سطح بلند ہونے کی ایک اہم وجہ ان کا تعلیمی معیار ہے۔ رپورٹ کے مطابق 25 سال سے کم عمر ہر دس میں سےسات بھارتی نژاد امریکی نوجوان یا تو انڈر گریجویٹ ہے یا اس پاس کالج کی ڈگری موجود ہے۔

اگر پاکستانی نژاد امریکیوں کی تعلیمی استعداد کا موازانہ امریکہ کی دوسری کمیونیٹز سے کیا جائے تو صورت حال کافی حوصلہ افزا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 55 فی صد پاکستانی امریکنز یا تو انڈر گریجویٹ ہیں یا ان کے پاس ماسٹرز کی ڈگری موجود ہے۔


جب مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک دوسرے کے ساتھ آزادانہ میل جول کے مواقع ملتے ہیں تو ایک ایسی ثقافت وجود میں آتی ہے جس میں مختلف ثقافتوں کے رنگ موجود ہوتے ہیں۔ اگرچہ پاکستانی امریکیوں نے دوسری ثقافتوں سے بہت کچھ سیکھا ہے لیکن پیوریسرچ کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ وہ دوسری کمیونٹیز کی نسبت اپنی ثقافت اور زبان کے ساتھ زیادہ سختی سے وابستہ ہیں۔ 80 فی صد پاکستانی امریکی اپنے گھروں میں انگریزی کی بجائے پاکستانی زبانیں بولتے ہیں۔ اور کم ازکم 12 فی صد پاکستانی امریکن ایسے ہیں جنہیں گھر سے باہر دوسروں کے ساتھ انگریزی میں بات چیت کرتے ہوئے مشکل پیش آتی ہے۔

امریکہ میں آباد تقریباً 15 فی صد پاکستانی امریکن خط غربت سے نیچے زندگی گذاررہے ہیں اور ان میں آٹھ فی صد بے روزگار ہیں۔ جب کہ امریکہ میں بے روزگاری کی عمومی سطح آٹھ فی صدسے زیادہ ہے۔

55 فی صد پاکستانی امریکنز یا تو انڈر گریجویٹ ہیں یا ان کے پاس ماسٹرز کی ڈگری موجود ہے۔


55 فی صد پاکستانی نژاد امریکی کرائے کے مکانوں اور اپارٹمنٹس میں رہتے ہیں جب کہ باقیوں کے پاس اپنے ذاتی گھر ہیں مگر ان میں سے 14 فی صد ایسےگھروں میں رہتے ہیں جہاں ان کی تعداد مکان کی گنجائش سے زیاد ہ ہے۔

امریکہ میں آبادی کے مختلف نسلی طبقات میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے۔ حالیہ مردم شماری کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ چند عشروں میں سفید فام اقلیت میں بدل جائیں گے کیونکہ سفید فام بچوں کی پیدائش کی شرح کم ہے۔

چند عشرے پہلے تک سیاہ فاموں کا شمار امریکہ کی سب سے بڑی اقلیت کے طورپر کیا جاتا تھا مگراب ہسپانوی نسل کے تارکین وطن دنیا کی اس سب سے بڑی معیشت کا سب سے بڑی اقلیت کا درجہ حاصل کرچکے ہیں۔ کھیتوں اور کارخانوں سے لے کر زندگی کے ہر شعبوں میں محنت مزدوری اور چھوٹے موٹے کام ہسپانوی ہی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔


ہسپانوی گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعلیمی استعداد ایشیائی ممالک کے تارکین وطن کے مقابلے میں نمایاں طورپر کم ہے۔ اکثر تو سرے سے انگریزی بول اور سمجھ نہیں سکتے اور ان کے لیے اکثر اداروں میں ہسپانوی زبان کے کتابچوں اور مترجموں کا انتظام موجود ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایشیائی ممالک سے آنے والے نئے تارکین وطن میں 61 فی صد کے پاس کالج کی ڈگری موجودہوتی ہے۔ یہ تعداد غیر ایشیائی تارکین وطن کے مقابلے میں دوگنے سے بھی زیادہ ہے۔

پیو ریسرح سینٹر کی رپورٹ میں مختلف کمیونٹیز کےسیاسی نظریات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان سمیت ایشیائی ممالک کے تارکین وطن صدر اوباما کی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں اور ان کی نصف سے زیادہ تعداد ڈیموکریٹس کی طرف میلان رکھتی ہے۔
XS
SM
MD
LG