رسائی کے لنکس

19 صدی کے اختتام تک بھارت میں ٹائیگر نسل کے شیروں کی آبادی کا تخمینہ ایک لاکھ لگایا گیا تھا ، جب کہ اب یہ تعداد 3500 گھٹ کر لگ بھگ رہ گئی ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے ملک بھر کے ان علاقوں میں سیاست پر پابندی لگا دی ہے جنہیں ٹائیگرنسل کے شیروں کے لیے محفوظ علاقے قرار دیا جاچکاہے۔ اس اقدام کا مقصدنایاب شیروں کو بچانا جن کی نسل کو مٹنے کا خطرہ لاحق ہے۔

منگل کو سپریم کورٹ نے یہ حکم چھ ریاستوں یعنی آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، تامل ناڈو، بہار ، مدھیہ پردیش اور جھاڑکھنڈ کو جرمانے عائد کرتے ہوئے دیا۔

مذکورہ ریاستیں شیروں کی محفوظ پناہ گائیوں کے علاقوں میں بفر زون قائم کرنے کے اس سے قبل کے عدالتی حکم پر عمل درآمد میں ناکام رہی تھیں۔

نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی کے ایک وکیل وسیم قادری نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ عدالت نے چھ ریاستوں کو اس سے قبل جاری کیے جانے والے دو عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے ثبوت پیش کرنے میں ناکامی پر دس ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

دنیا بھر میں ٹائیگر شیروں کی کل آبادی کی نصف تعداد بھارتی جنگلوں میں رہتی ہے جس میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔ 19 صدی کے اختتام تک بھارت میں ٹائیگر نسل کے شیروں کی آبادی کا تخمینہ ایک لاکھ لگایا گیا تھا ، جب کہ اب یہ تعداد 3500 گھٹ کر لگ بھگ رہ گئی ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG