رسائی کے لنکس

امریکہ میں تعلیم کا خواب

  • عشرت سلیم
  • واشنگٹن

Fulbright-logo-2

Fulbright-logo-2

چھ دہائیوں کے دوران چار ہزار پاکستانی مختلف پروگرامز کے تحت امریکہ سے تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔ سال2012 ء کے دوران 180 پاکستانی طالب علموں کو ایم اے اور پی ایچ ڈی کے لیے فل برائٹ سکالرشپ دیا گیا۔

اگر آپ یونائیٹڈ سٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن اِن پاکستان (یو ایس ای ایف پی) کی ویب سائٹ پر جائیں تو سرخ حروف میں ایک اطلاع آپ کا استقبال کرتی ہے "یاد رکھیں کہ یو ایس ای ایف پی کے تمام سکالرشپس پر کسی قسم کی کوئی فیس نہیں۔ امیدواروں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ درخواست کے فارم حاصل کرنے کیلئے کسی کو کوئی فیس ادا نہ کریں۔ یہ تمام فارم ہماری ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کئے جا سکتے ہیں۔"

1950ء میں امریکہ اور پاکستان کی حکومتوں کے تعاون سے قائم کی گئی یہ فاؤنڈیشن 14 سکالرشپ پروگرامز چلاتی ہے جن میں فُل برائٹ پروگرام سب سے نمایاں ہے۔ پاکستان میں یو ایس ای ایف پی کے کمیونیکیشن آفیسر نعمان منظور نے وی او اے کو ایک ای میل انٹرویو میں بتایا کہ اس فاؤنڈیشن کا مقصد پاکستان اور امریکہ کے عوام کو تعلیمی اور ثقافتی تبادلوں کے ذریعے ایک دوسرے کو سمجھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔

گزشتہ تقریباً چھ دہائیوں کے دوران چار ہزار پاکستانی مختلف پروگرامز کے تحت امریکہ سے تعلیم حاصل کرچکے ہیں۔ سال2012 ء کے دوران 180 پاکستانی طالب علموں کو ایم اے اور پی ایچ ڈی کے لیے فل برائٹ سکالرشپ دیا گیا۔ اس کے علاوہ انڈر گریجوایٹ سٹوڈنٹس، اساتذہ، صحافیوں اور دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے بھی مختلف سکالرشپ پروگرامز موجود ہیں جن کا اعلان اخبارات اور یوایس ای ایف پی کی ویب سائٹ پر کیا جاتا ہے۔ ان سکالرشپ پروگرامز کے تحت تعلیم حاصل کرنے کے لئے پاکستان سے امریکہ جانے والے طالب علموں کو سفر، تعلیم اور رہائش وغیرہ کے تمام اخراجات کے لئے رقم فراہم کی جاتی ہے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی مِناء سہیل آج کل فُلبرائٹ سکالرشپ پر نیویارک یونیورسٹی سے صحافت میں ایم اے کررہی ہیں۔ پاکستان میں بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی سے ابلاغِ عامہ میں ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ مختلف اخبارات اور ٹیلیویژن چینلز کے ساتھ کام کرچکی ہیں۔ وی او اے سے بات کرتے ہوئے مِناء نے بتایا کہ سکالرشپ کی درخواست کے ساتھ تعلیمی اسناد، ذاتی تحریر یعنی پرسنل سٹیٹمنٹ اور سفارشی خطوط یعنی ریکومنڈیشن لیٹرز کے علاوہ جی آر ای اور انگریزی زبان کے امتحان کے نتائج یو ایس ای ایف پی کے دفتر جمع کرانا ہوتے ہیں۔

جب وی او اے نے ان سے پوچھا کہ کس چیز نے سکالرشپ حاصل کرنے میں ان کی سب سے زیادہ مدد کی تو انہوں نے کہا، "میرا جی آر ای سکور کافی کم تھا اور میرے سابقہ گریڈ بھی کوئی اتنے اچھے نہیں تھے۔ اسلئے میں کہہ سکتی ہوں کہ ان کو اتنی اہمیت نہیں دی گئی مگر میں نے اپنے شعبے یعنی جرنلزم میں چار سال بہت محنت کی تھی۔ میں اپنے کام کے بارے میں بات کرسکتی تھی اور اسے دکھا سکتی تھی۔ میں نے اپنے انٹرویو میں انہیں بتایا کہ میں پاکستان کیلئے واپس آ کر کیا کرنا چاہتی ہوں۔ میرا خیال ہے اسی وجہ سے مجھے یہ سکالرشپ دیا گیا۔"

مِناء کے خیال میں درخواست کا سب سے اہم حصہ ذاتی تحریر ہے کیونکہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کس قسم کے انسان اور کتنے پروفیشنل ہیں اور آپ کی زندگی کے کن تجربات نے آپ کی شخصیت کی تعمیر کی ہے۔ مناء کا کہنا ہے، "میں نے یہ تحریر لکھنے میں بہت وقت صرف کیا۔ میں نے پہلے فُل برائٹ سکالرشپ حاصل کرنے والے لوگوں سے اس کے بارے میں مشورہ لیا۔ جو دوست میرے ساتھ درخواست دے رہے تھے ان سے بھی تفصیل سے بات کی کہ کیا لکھا جائے۔ لکھنے کے بعد میں نے اپنے دوستوں اور گھر والوں کے تاثرات جاننے کیلئے انہیں اپنی تحریر پڑھنے کیلئے دی۔ اگر مجھے لگا کہ کسی جگہ مطلب واضح نہیں ہوا تو میں نے اس میں ترامیم کردیں۔" یو ایس ای ایف پی بھی پرسنل سٹیٹمنٹ لکھنے کے بارے میں سیمینارز اور ورکشاپس منعقد کرواتی رہتی ہے۔ ان سیمینارز اور ورکشاپس میں شریک ہونے کیلئے آپ کو مذکورہ فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ پر بطور سٹوڈنٹ رجسٹر کروانا ہوتا ہے۔

پاکستان سے ایک اور طالب علم احمد مصطفٰی نے ہائی سکول کے آخری سال کی تعلیم ریاست میساچوسٹس کے شہر اینڈوورمیں واقع فلپس اکیڈمی سے حال ہی میں مکمل کی ہے۔ انہوں نے کسی کی مدد کے بغیر خود ہی یہاں داخلہ حاصل کیا۔ احمد نے وی او اے کو بتایا کہ ان کو ویزا حاصل کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی۔

یو ایس ای ایف پی کے نعمان منظور کا کہنا ہے کہ سکالرشپ پروگرامز کے تحت امریکہ جانے والے طالب علموں کی اکثریت کو وقت پر ویزا مل جاتا ہے اور وہ تعلیمی اداروں میں نصابی سال شروع ہونے تک امریکہ پہنچ جاتے ہیں۔ ویزا حاصل کرنے کیلئے انہیں ثبوت پیش کرنا ہوتا ہے کہ وہ واقعی کسی امریکی تعلیمی ادارے کے سٹوڈنٹ ہیں، ان کے پاس اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے رقم موجود ہے اور تعلیم مکمل ہونے کے بعد وہ پاکستان واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یو ایس ای ایف پی کے سکالرشپ پروگرامز کے علاوہ بھی امریکہ میں تعلیم کی فنڈنگ کے کئی مواقع موجود ہیں۔ کئی امریکی یونیورسٹیاں درخواست دینے والے طلباء کو میرٹ پر وظائف فراہم کرتی ہیں۔ یوایس ای ایف پی خود سے یونیورسٹیوں میں درخواست دینے والے طالب علموں کو بھی داخلے سے لے امریکہ کا ویزا حاصل کرنے تک مفت معلومات اور مشورے فراہم کرتی ہے۔ امریکہ کی چار ہزار سے زائد مستند کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سے اپنے لئے بہترین ادارے کا انتخاب کرنے میں یہ مشورے بہت مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

پاکستان میں امریکی سفارتخانہ بھی مختلف پروگرامز کا انعقاد کرتا ہے جن کے ذریعے طلباء کو امریکہ آنے اور یہاں کی زندگی، نظامِ اور کلچر کا مشاہدہ کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ کنیئرڈ کالج میں بی اے آنرز کی طالبہ سمیعہ فاطمہ آج کل ایسے ہی ایک پروگرام کے تحت امریکہ کے ایک ماہ کے دورے پر ہیں۔ انہیں اس پروگرام کے بارے میں امریکی سفارتخانے کے فیس بُک پیج سے معلوم ہوا تھا۔ ان کا کہنا ہے، "یہاں آکر میں نے امریکہ کے آئین، سیاسی اور عدالتی نظام اور میڈیا اداروں کے بارے میں سیکھا ہے مگر سب سے اہم بات یہ سیکھی ہے کہ کسی ملک کی حکومت کی پالیسیاں اس کے لوگوں کے اچھا یا برا ہونے کا پیمانہ نہیں۔ میں یہاں بہت اچھے امریکی لوگوں سے ملی ہوں۔"

یو ایس ای ایف پی کے دفاتر اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں کام کررہے ہیں جبکہ اس کا ایک آؤٹ ریچ سینٹر سندھ میں جامشورو کی ایک یونیورسٹی میں بھی کام کررہا ہے۔

سکالرشپ پروگرامز کے بارے میں معلومات فاؤنڈیشن کی ویب سائٹ http://www.usefpakistan.org سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔
XS
SM
MD
LG