رسائی کے لنکس

شمالی کوریا: عالمی امدادی کارکنوں کا سیلابی علاقوں کا دورہ

  • واشنگٹن

شدید بارشوں کے باعث شمالی کوریا کے بیشتر علاقے 25 جولائی کے بعد سے تباہ کن سیلاب کے نشانے پر ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی ایک امدادی ایجنسی نے کہا ہے کہ اس نے شمالی کوریا میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے متاثرہ افراد کی ضروریات کا جائزہ لینے کےلیے اپنے اہلکار متاثرہ علاقوں میں بھیجے ہیں۔

'یونیسیف' کے ترجمان کرسٹوفر ڈی بونو نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں تعینات عالمی ادارے کے اہلکار منگل کو جنوبی پیانگن اور کنگوون نامی صوبوں کو روانہ ہوئے جو حالیہ سیلاب سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ شدید بارشوں کے باعث شمالی کوریا کے بیشتر علاقے 25 جولائی کے بعد سے تباہ کن سیلاب کے نشانے پر ہیں۔ پیانگ یانگ کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے گزشتہ ہفتے سیلاب سے 88 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

بارشوں کا سلسلہ رواں ہفتے کے آغاز پر بھی جاری تھا جس سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی تازہ تفصیل تاحال منظرِ عام پر نہیں آسکی ہے۔

شمالی کوریا کی حکومت کا کہنا ہے کہ سیلاب سے لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے ہیں جب کہ وسیع رقبے پر پھیلی زرعی اراضی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ تاہم پیانگ یانگ حکومت نے عالمی برادری سے امداد کی کوئی باضابطہ اپیل نہیں کی ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'کے سی این اے' کی منگل کو جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیرِاعظم چو یونگ رم نے سیلاب سے شدید متاثر ہونے والے کئی قصبات کا دورہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وزیرِ اعظم نے دورے کے دوران سیلاب متاثرین کے لیے کی جانے والی امدادی کاروائیوں کا جائزہ لیا اور متاثرہ علاقوں میں تعمیرِ نو کی سرگرمیوں کے لیے حکومتی مدد کا یقین دلایا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپنے دورے کے دوران وزیرِاعظم نے ملک میں نئے درخت اگانے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ زمین کا کٹاؤ روکا جاسکے۔ یاد رہے کہ جنگلات کے بے دریغ کٹاؤ کے باعث شمالی کوریا کے کئی علاقوں کے سیلاب کا نشانہ بننے کے خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

ادھر امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ایک ترجمان نے 'وائس آف امریکہ' سے گفتگو کرتے ہوئے شمالی کوریا کے عوام کو درپیش مشکلات پر پریشانی کا اظہار کیا ہے۔

محکمہ خارجہ کی ترجمان نے کہاکہ امریکہ کا شمالی کوریا میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا اپنے طور پر تخمینہ لگانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ان کے ملک نے شمالی کوریا کو انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی سیاسی یا سیکیورٹی سے متعلق معاملات سے مشروط نہیں کی ہے۔

یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ شمالی کوریا کی ڈھائی کروڑ آبادی میں سے دو تہائی خوراک کی شدید کمی کا شکار ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب سے صورتِ حال مزید ابتر ہوسکتی ہے کیوں کہ سیلاب سے قبل ملک میں خشک سالی کا دورہ دورہ تھا۔
XS
SM
MD
LG