رسائی کے لنکس

افغان وزراء کی برطرفی کا پارلیمانی مطالبہ منظور


افغان صدر حامد کرزئی

افغان صدر حامد کرزئی

تاہم صدر حامد کرزئی نے وزیرِ دفاع اور وزیرِ داخلہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے انھیں متبادل وزراء کی تعیناتی تک کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

افغان صدر نے داخلہ اور دفاع کے وزراء کو برطرف کرنے کا پارلیمان کا مطالبہ منظور کرتے ہوئے دونوں کو عارضی طور پر کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

صدر حامد کرزئی نے اتوار کو کابل میں قومی سلامتی کونسل کے معمول کے ایک اجلاس کی صدارت کی، جس میں وزیرِ داخلہ بسم اللہ محمدی اور وزیرِ دفاع عبدالرحیم وردک پر پارلیمان کی جانب سےعدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انھیں برطرف کرنے کا معاملہ زیر بحث آیا۔

اجلاس کے بعد صدارتی ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قومی سلامتی کونسل آئینی طور پر پارلیمان کے فیصلے کا احترام کرنے کی پابند ہے، تاہم صدر کرزئی نے وزیرِ دفاع اور وزیرِ داخلہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے انھیں متبادل وزراء کی تعیناتی تک کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

افغان پارلیمان نے ملک میں اہم سرکاری شخصیات کی قاتلانہ حملوں میں ہلاکتیں اور مبینہ طور پر پاکستانی افواج کی طرف سے سرحد پار افغانستان کے دیہاتوں پر بھاری توپ خانے سے بمباری کو روکنے میں ناکامی پر ایک روز قبل پارلیمان نے دفاع اور داخلہ امور کے وزراء کو برطرف کرنے کی قرارد منظور کی تھی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد سرحد پر اضافی افغان فوجیں بھی تعینات کی گئی ہیں۔

افغان حکومت کا الزام ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے پاکستانی فوج سرحد پار کنڑ اور نورستان صوبوں میں شہری اہداف پر بمباری کر رہی ہے جس نے مقامی لوگوں کو نقل مکان پر مجبور کر دیا ہے۔

لیکن اس کے برعکس پاکستانی حکام کا الزام ہے کہ سوات اور دیگر علاقوں میں فوجی آپریشنز سے فرار ہونے والے طالبان جنگجوؤں نے دونوں افغان صوبوں میں پناہ لے رکھی ہے جہاں سے وہ پاکستانی تنصیبات پر ایک درجن سے زائد مہلک حملے کر چکے ہیں۔

وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے اتوار کو ایک بیان میں امکان ظاہر کیا تھا کہ افغان حکومت میں بعض عناصر سوات کے مفرور کمانڈر فضل اللہ کو پاکستانی علاقوں پر حملے کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG