رسائی کے لنکس

بینائی اور سماعت سے محروم مشہور ماہر تعلیم، ہیلن کیلر

  • صفیہ کاظم
  • واشنگٹن

اُنھوں نے اپنی تمام تر زندگی دنیا بھر کے بصارت اور بینائی سےمحروم افراد اور اُن کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کردی

بینائی اور سماعت سے محروم، Helen Keller کمال درجے کی ذہیں مصنفہ، لیکچرر اور سیاسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی خاتون تھیں۔

ہیلن کیلر 27جون 1880ء میں الاباما میں پیدا ہوئیں۔ پیدائش کے وقت وہ سن بھی سکتی تھیں اور دیکھ بھی سکتی تھیں۔

چھ ماہ کی عمر میں بولنا شروع کردیا تھا اور ایک سال میں چلنے بھی لگی تھیں۔

آڈیو رہورٹ سننے کے لیے کلک کیجیئے:



فیملی ڈاکٹر کے مطابق 1892ء میں ہیلن کیلر کوbrain fever ہوا لیکن حتمی طور پر آج تک یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ اُنھیں کون سی بیماری ہوئی تھی۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اُنھیں Meningitisہوا تھا۔ بخار اترنے کے کچھ ہی دن بعد کیلر کی والدہ نے بتایا کہ ہیلن نہ تو سن پارہی تھیں اور نہ ہی اُنھیں کچھ نظر آرہا تھا۔

اُن کی والدہ ہر دم یہی جاننے کی کوشش کرتیں کی ہیلن کی زندگی کو کس طرح کامیاب بنایا جائے۔ اتفاقاً اُنھوں نے چارلز ڈکنز کا ایک سفر نامہ پڑھا جس میں ایک بہری اور نابینا بچی Laura
کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ اِن محرومیوں کے باوجود اُنھوں نے کس طرح تعلیم حاصل کی۔

فوراً ہی اُنھوں نے ہیلن کیلر اور اُن کے والد کو بالٹیمور، میری لینڈ، روانہ کیا جہاں ڈاکٹر جولیان نے اُن کا معائنہ کیا اور ڈاکٹر الیگزینڈر گراہم بیل کے پاس بھیجا، وہیں پر اُن کی ملاقات اُن کی ٹیچر این مینس فیلڈ سلیوان سے ہوئی، جنھوں نے اُنھیں اندھیرے سے نکالا۔

ابھی وہ 10سال کی ہی تھیں جب اُنھیں بریل پر مہارت حاصل ہوگئی، ساتھ ہی اُنھوں نے ٹائپ رائٹر استعمال کرنا بھی سیکھ لیا۔ سولہ سال میں اُنھیں اتنا بولنا آگیا تھا کہ وہ اسکول اور پھر کالج جانے کے قابل ہوگئیں۔ 1904ء میں اُنھوں نے ریڈ کلف کالج سے گراجوئیشن کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم کے دوران، اُن کی ٹیچر این سلیوان ہمیشہ اُن کے ساتھ رہیں۔

ہیلن کیلر نے اپنی تمام تر زندگی دنیا بھر کے بصارت اور بینائی سےمحروم افراد اور اُن کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کردی۔
XS
SM
MD
LG