رسائی کے لنکس

وسکانسن: ہلاک ہونے والے چھ سکھوں کی یاد میں تعزیتی اجلاس

  • واشنگٹن

ایرک ہولڈر نے کہا کہ غم کے اس موقع پر امریکی عوام سکھوں کے ساتھ برابر کا شریک ہے۔ اُنھوں نے اس حملے کی مذمت کی جو اُس وقت واقع ہوا جب سکھ مذہب کے ماننے والے گذشتہ ہفتے عبادت کے لیے جمع تھے

جمعے کے روز امریکی ریاست وسکانسن میں چھ سکھوں کی تدفین اور یاد میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا جس میں سینکڑوں افراد جمع ہوئے۔ اُنھیں گذشتہ اتوار کو سفید فام برتری کے قائل ایک شخص نےگودوارے کے اندر ہلاک کردیا تھا۔

اِن سوگواروں میں متعدد لوگ بھارتی نژاد امریکی تھے، جو چھ معیتوں کے پاس کھڑے تھے، جب کہ مرنے والوں کی تصاویر ایک بڑی وڈیو اسکرین پر آویزاں کی جارہی تھیں۔ سکھ مذہبی لیڈروں نے بھجن پیش کیے اور دعا پڑھی۔

امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے سوگواران سے کہا کہ غم کے اس موقع پر امریکی عوام اُن کے ساتھ برابر کا شریک ہے۔



اُنھوں نے اس حملے کی مذمت کی جو اُس وقت واقع ہوا جب سکھ مذہب کے ماننے والے
گذشتہ ہفتے عبادت کے لیے جمع تھے۔

ایرک ہولڈر کے بقول، ’ حالیہ دِنوں میں بہت سے سکھوں کو محض اس لیے ہدف بنایا گیا کہ وہ کون ہیں، کیسے لگتے ہیں اور اُن کا اعتقاد کیا ہے۔ یہ غلط ہے۔ یہ قابل قبول نہیں ہے۔ اور اِسے برداشت نہیں کیا جائے گا‘۔

شوٹنگ کے واقع میں ہلاک ہونے والوں میں گوردوارے کے سربراہ، 65برس کے ستونت سنگھ کلیکا اور ایک 84سالہ عبادت گزار، سویگ سنگھ بھی شامل تھے۔



پولیس کے ہاتھوں زخمی ہونے کے بعد، حملہ آور ویڈ مائیکل پیج نے اپنے آپ کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ پیج ایک سابق فوجی تھے جن کے سفید فام برتری میں یقین رکھنے والے گروہوں سے تعلقات تھے۔ تاہم، چھان بین کرنے والوں کو ابھی قتل کے واقعے کے اصل محرکات کی تلاش ہے۔
XS
SM
MD
LG