رسائی کے لنکس

جنوبی افریقہ : گینڈوں کے بچوں کا پہلا مرکز

  • واشنگٹن

گینڈوں کے بچوں کے لیے قائم کردہ اس پہلے یتیم خانے کا پہلا مکین اپنی ماں سے بچھڑنے والا چار ماہ کا ایک بچہ ہے۔

گینڈوں کے یتیم اور بے سہارا بچوں کی دیکھ بھال کے لیے قائم کیے جانے والے پہلے مرکز نے جنوبی افریقہ میں کام شروع کردیا ہے۔

گینڈوں کے تحفظ کی ایک ماہر کیرن ٹرینڈلر نے کہاہے کہ اس مرکز کا قیام بے سہار اور اپنے ماں باپ سے بچھڑ جانے والے گینڈوں کے بچوں کی نگہداشت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں شکار کے مسئلے سے بڑے پیمانے پر مشکلات پیدا ہورہی ہیں جن میں جانوروں کی ہلاکتوں کے ساتھ ساتھ اکثر نوزائیدہ گینڈوں کے زخمی ہوجانے کے واقعات بھی شامل ہیں۔ ان بچوں کو خوف کے احساس سے نکالنے کے لیے خصوصی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ وہ ایک صحت مند گینڈے کے طورپر پروان چڑھ سکیں اور پھر انہیں جنگل میں آزاد کردیا جائے۔

گینڈوں کے بچوں کے لیے قائم کردہ اس پہلے یتیم خانے کا پہلا مکین اپنی ماں سے بچھڑنے والا چار ماہ کا ایک بچہ ہے۔

دنیا بھر میں سب سے زیادہ گینڈے جنوبی افریقہ میں پائے جاتے ہیں۔

جنوبی افریقہ کے ماحولیات سے متعلق ادارے کے اعداد وشمار کے مطابق 2012ء کی پہلی ششماہی میں 245 گینڈوں کا شکار کیا گیا تھا۔

ایشیا میں گینڈے کے سینگ مہنگے داموں بکتے ہیں کیونکہ وہاں انہیں روایتی دوائیں بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور وہاں لوگوں کا خیال ہے یہ دوائیں کئی امراض کے علاج میں انتہائی مفید ہیں۔

اس مرکز کو عام لوگوں کے لیے نہیں کھولا جارہا کیونکہ اس کے قیام کا مقصد گینڈوں کے بچوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ بڑے ہونے پر انہیں جنگلوں میں آزاد کیا جاسکے۔
XS
SM
MD
LG