رسائی کے لنکس

باہنر لوگ اور جُز وقتی طور پر کام کرنے والے امریکہ میں نہائت اہم فرائض سرانجام دیتے ہیں

امریکہ میں ایسی مساعی جاری ہیں جِن کا مقصدیہ ہے کہ تارکین ِوطن کے لئے قانونی طور پر امریکہ میں وارد ہونے میں آسانی پیدا کرنا اور ایک ایسا طریقہ وضع کرنا ہےجِس کی مدد سے ملک میں موجود غیر قانونی طور مقیم تارکین وطن کے لئے قانونی حیثیت سے ٹکے رہنا ممکن بنانا ہے۔

اخبار ’بوسٹن گلوب‘ کی ایک رپورٹ کےمطابق، اس میں کئی اخباروں اور ٹیلی وژن نیٹ ورک کے مالک ریوپرٹ مرڈاک اور نیو یارک شہر کے میئر مائیکل بلُوم برگ پیش پیش ہیں ۔ دونوں اس مقصد سےقائم ایک تنظیم کے شریک چئیر من ہیں جو نئی امریکی مئیروں اور کاروباری شعبے کی ممتاز شخصیات کا ایک اتّحاد ہے اور جو اِمی گریشن کےقوانین میں صائب اصلاحات کرنے کی وکالت کر رہے ہیں۔

ایک پینل کے مباحثے میں شرکت کرتے ہوئے مرڈاک نے کہا کہ امریکہ اس وقت ایک بُحران میں پھنسا ہوا ہے۔ اُسے انجنئیروں اور دوسرے شعبوں کے ماہرین کی اشد ضرورت ہے اور چُونکہ یہ ملک اپنے طور پر یہ ضرورت پوری نہیں کر سکتا، اس لئے اُن کی دانست میں یہ ایک ہولناک بات ہے کہ جو لوگ یہاں کی یونیورسٹیوں سے اعلیٰ ڈگریاں حاصل کر تے ہیں ۔ انہیں محدود نوعیت کے ایچ ون بی ویزے کی جگہ خودبخود کیوں
معمول کے وٕیزے نہیں دئے جاتے۔


آڈیو رپورٹ سننے کے لیے کلک کیجیئے:



مسٹر مرڈاک آسٹریلیا میں پیدا ہوئے تھے جنہوں نے بعد میں امریکی شہریت اختیار کر لی تھی ۔

مسٹر بلوم برگ کا کہنا تھا کہ اکثر لوگوں کو اس سے اتفاق ہے کہ باہنر لوگوں اور جُز وقتی طور پر کام کرنے والوں کے لئے جو اس ملک میں نہائت اہم فرائض سرانجام دیتے ہیں، قواعد میں ترمیم کی جا ئے۔ لیکن ابھی تک کانگریس میں اس پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔

اخبار کہتا ہےکہ کانگریس میں دونوں طرف کے سیاست دان مانتے ہیں کہ موجودہ اِمی گریشن پالیسی میں مسائل ہیں۔ لیکن، اختلاف اس پر ہے کہ انہیں کیسے حل کرنا ہے، سرحدوں کی سیکیورٹی کو کتنی اہمیت دی جائے اور نئے آنے والوں کے لئے امریکہ میں داخل ہونا کتنا آسان ہونا چاہئیے اور جو ایک کروڈ دس لاکھ تارکین وطن غیرقانونی طور پر ملک میں پہلے سے موجود ہیں اُن کا کیا جائے ۔ اِمی گریشن کےحامی اس ملک میں برس ہا برس سے مقیم لوگوں کوسکونت کاحق دینے کا کوئی قانونی راستہ نکالنے کی وکالت کرتے ہیں جب کہ اس کے مخالفین کا موقّف ہے کہ یہ تو اُن لوگوں کو انعام دینے کے مترادف ہوگاجنہوں نے اس ملک کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

اخبار ’فلوریڈا ٹائمز یونین‘ نے امریکہ میں صدراتی انتخابا ت کےرواں سال میں اپنے قارئین کو بغیر دستخطوں والی ای میلز کے بارے میں خبردار کیا ہے جن میں صدر اوباما کے بارے میں افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ ایسی بہت سی وجوہات ضرور ہیں جن کی بنا پر صدر اوبامہ کی پالیسیوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ لیکن بغیر دستخطوں کےایسی ای میلز کی بھر مار غیر معمولی ہے۔ چنانچہ، اخبار کو تجسّس ہوا کہ اس قسم کی ای میلز کُل کتنی تعداد ہو سکتی ہیں اوراگر اُن کے ری پبلکن مدّمقابل مٕٹ رامنی کے بارے میں بھی اس قسم کی ای میلز بھیجی جا رہی ہیں، تو ان کا کیا تناست ہے ۔

اخبار کہتاہے کہ سنوپس ویب سائٹ سے اس کی تحقیق کی گئی تو جہاں اوباما کے بارے میں ایسی ای میلز کی تعداد 340 نکلی وہاں رامنی سے متعلق ایسی ای میلز کی تعداد صرف 17 تھی ۔

اخبار کہتا ہے کہ دونوں پارٹیوں کے انتخابی مہم چلانے والے جس مہارت کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ اکثر حد سے بڑھ جاتی ہے اور جہاں مبالغہ آرائی کا نزلہ زیادہ تر اوباما پر گرتا ہے وہاں رامنی بھی دوسرے ذرائع سے اس کی زد سے محفوظ نہیں رہتے۔

’ کرسچن سائینس مانٹر‘ کےمطابق اگرچہ سری لنکا میں تامل بغاوت تین سال قبل ختم ہو گئی تھی ۔ لیکن، تامل علاقوں پر ابھی بھی سیکیورٹی فوجوں کا مکمل تصرّف ہے جن سے لوگ اب بھی خوف کھاتے ہیں۔ تامل ٹائیگرز نے مرکزی حکومت کے خلاف جس پر سنہالی اکثریت کا غلبہ ہے، 26 سال تک جنگ لڑ ی جس میں 40 ہزار شہری ہلاک ہوئے ، اور جس میں بالآخرتین سال قبل انہیں شکست ہوئی ۔

لیکن، اس شمالی علاقے میں جہاں کی غالب اکثریت تاملوں پر مشتمل ہے ابھی تک جگہ جگہ فوجی کیمپ قائم ہیں ۔شمال کی جانب جانے والی بسوں کو ووُونیا سے آگے چیک کیا جاتا ہے اور مسافروں کی جامہ تلاشی لی جاتی ہےاور شناختی کارڈوں کا معائنہ کیا جاتا ہے۔

’سری لنکا ‘ ہفتہ رسالے کے مدیرمالندہ سی نے وی رتنے کا موقف ہے کہ جب آپ 30 سال تک دہشت گردی کی زد میں رہے ہوں تواحتیاطی تدابیر ضروری ہو جاتی ہیں۔ لیکن،
’ کرسچن سائینس مانٹر‘ کہتا ہے کہ بہت سے تاملوں کو یہ فکر ہے کہ سیکیورٹی کے یہ اضافی انتظامات تامل اقلیّت پر تصرّف برقرار کھنے کا ایک بہانہ ہے اور اگر یہ صحیح ہے تواس کا مطلب اسی امتیاز کی طرف واپس جانا ہوگا جس کی وجہ سے خانہ جنگی شروع ہوئی تھی۔
XS
SM
MD
LG