رسائی کے لنکس

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق ایرانی حکومت معاشرے میں سماجی بگاڑ کی ذمہ دار بھی خواتین کی اعلیٰ تعلیم کو سمجھتی ہے

اسلامی جمہوریہٴ ایران کی نئی تعلیمی پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے جس کے مطابق آ ئندہ تعلیمی سال میں ایرانی خواتین کیلئے ملک کی چھتیس یونیورسٹیوں میں ستر سے زائد کورسز پر پابندی لگادی گئی ہے۔

اب ایرانی طالبات اپنی مرضی سے ہر مضمون کا انتخاب نہیں کرسکتیں۔
حکومت ِ ایران نے خواتین کے معیار تعلیم کو شرح پیدائش اور شادی میں کمی کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق ایرانی حکومت معاشرے میں سماجی بگاڑ کی ذمہ دار بھی خواتین کی اعلیٰ تعلیم کو سمجھتی ہے۔

اس نئی تعلیمی پالیسی کے اعلان کے مطابق، ایرانی خواتین پر بی اے(بیچلر آف آرٹس) اور ابی ایس سی ( بیچلر آف سائنس) کے ڈگری کورسزمیں انگریزی ادب، انگریزی ترجمہ، ہوٹل مینجمنٹ، آثار قدیمہ، جوہری طبیعیات، کمپیوٹر سائنس،الیکٹرانک انجینرنگ ،صنعتی انجینئرنگ ، ایگریکلچرل سائنس اور بزنس مینجمنٹ جیسے مضامین میں داخلہ لینے پرپابندی لگادی گئی ہے۔



یونیسکو کے ایک سروے کے مطابق دنیا کی تمام یونیورسٹیوں میں ایرانی یونیورسٹیاں سرفہرست ہیں جس میں بی اے اور بی ایس سی انڈرگریجویٹس میں طالبات کی تعداد طلبہ سے زیادہ ہے، جن میں طبیعات اور انجینئرنگ کے شعبے سرفہرست ہیں۔

مشرقِ وسطٰی کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ایران میں خواتین کی تعلیم کی صورتحال قدرے بہتر تصور کی جاتی ہے۔ ایران کی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے طلبا میں دو تہائی تعداد لڑکیوں کی ہوتی ہے۔

جبکہ، حالیہ اعلان کے بعد ایرانی طالبات سائنس اور ٹیکنالوجی کی ڈگریاں لینے سے محروم رہیں گی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG