رسائی کے لنکس

دنیا کے کئی ایک ممالک خشک سالی کی زد میں

  • واشنگٹن

عالمی موسمیاتی ادارے کے پیش گوئی کے شعبے کے ڈائریکٹر کہتے ہیں کہ امریکہ کا ایک چوتھائی رقبہ خشک سالی کی زد میں ہے جس کی وجہ سے فصلوں اور مویشیوں کو تباہ کن نقصانات پہنچ سکتے ہیں

دنیا کے بہت سے حصوں کو اس سال خشک سالی کا سامنا ہے۔ امریکہ بھی اِن میں شامل ہے۔ اور یہ خشک سالی اتنی شدید ہے کہ اس کی مثال پچھلے سو سال میں بھی نہیں ملتی۔

عالمی موسمیاتی ادارے کے پیش گوئی کے شعبے کے ڈائریکٹر مناوا شو کمار کہتے ہیں کہ امریکہ کا ایک چوتھائی رقبہ خشک سالی کی زد میں ہے جس کی وجہ سے فصلوں اور مویشیوں کو تباہ کن نقصانات پہنچ سکتے ہیں۔

جون کے آخر تک امریکہ کو خشک سالی کا سامنا کرتے ہوئے ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرچکا ہے۔

سنہ 1895کے بعدیہ شدید ترین خشک سالی ہے ۔ اِن حالات کو دیکھ کر اندازہ لگایا جارہا ہے کہ مئی کی فصل کو کم از کم 25فی صد تقصان پہنچا ہے۔ ظاہر ہے اس کا اثر نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں پر بھی پڑے گا۔

اقوام متحدہ کے خوراک و زراعت کے ادارے نے اطلاع دی ہے کہ خوراک کی قیمتوں میں تقریباً چھ فی صد اضافہ ہوچکا ہے اور اگر خشک سالی جاری رہی تو حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں۔

’فوڈ پالیسی رسرچ انسٹی ٹیوٹ‘ اور اقوام متحدہ نے امریکہ سے کہا ہے کہ وہ اپنے بائیو فیول کے پروگرام کو ترک کردے کیونکہ اس میں امریکہ اپنی مکئی کی پیداوار کا 40فی صد حصہ استعمال کرتا ہے۔

دوسری طرف بھارت کو بھی شدید خشک سالی کا سامنا ہے۔ ملک کے 70فی صد حصے میں بارشیں تقریبا 70فی صد کم ہوتی ہیں۔

اس طرح، برازیل، میکسیکو، آسٹریلیا اور یورپ کے کچھ حصوں میں بھی خشک سالی ہے۔ تاہم، جو اعدادو شمار حاصل ہوئے ہیں اُن کے مطابق افریقہ میں ملک کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں خشک سالی کم ہوئی۔

عالمی ادارہٴ موسمیات اور اقوام متحدہ کی دوسری ایجنسیاں خشک سالی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پالیسیاں مرتب کر رہی ہیں۔ شیو کمار کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے علاوہ کسی اور ملک نے اس سلسلے میں کوئی قومی پالیسی نہیں بنائی ہے۔

منصوبے اور پالیسی میں بڑا فرق ہے۔ منصوبے پر عمل درآمد کا انحصار کسی ملک کی حکمراں دسیاسی جماعت پر ہوتا ہے۔

کچھ سیاسی جماعتیں اس منصوبوں پر سنجیدگی سے توجہ دیتی ہیں اور کچھ کے سامنے دیگر مسائل ہوتے ہیں اور اسے وہ ترجیح نہیں دیتیں جو دینا چاہیئے۔

دوسری طرف، پالیسی کا تعلق سیاسی جماعت سے نہیں ہوتا۔ اُس پر تو قانونی طور پر ہر حال میں عمل کرنا ہوتا ہے۔

شیو کمار کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو چاہیئے کہ وہ سب سے پہلے خشک سالی کے ممکنہ نقصانات کا تخمینہ لگائیں اور پھر اس کی روشنی میں پالیسی مرتب کریں اور ایسے اقدامات اٹھائیں جن سے اس مسئلے سے نمٹا جاسکے۔
XS
SM
MD
LG