رسائی کے لنکس

غیر رسمی مذاکرات کے لیے پاکستانی قانون سازوں کا دورہِ بھارت


پاکستانی اراکینِ پارلیمان کا بھارت روانگی سے قبل گروپ فوٹو۔

پاکستانی اراکینِ پارلیمان کا بھارت روانگی سے قبل گروپ فوٹو۔

پاکستانی وفد دوطرفہ دیرینہ مسائل کے حل کے علاوہ دونوں ملکوں کے عوام کی فلاح سے متعلق اُمور پر بھی بات چیت کرے گا۔

پاکستانی اراکین پارلیمان کا 18 رکنی وفد اپنے بھارتی ہم منصوبوں سے غیر رسمی مذاکرات کے لیے بدھ کو واہگہ بارڈر کے راستے پانچ روزہ دورے پر بھارت پہنچ گیا ہے۔

جمہوریت کے فروغ اور قانون سازی سے متعلق پاکستان کی ایک غیر سرکاری تنظیم پلڈاٹ کے تعاون سے دونوں پڑوسی ممالک کے اراکین پارلیمان کے درمیان اس سے قبل غیر سرکاری مذاکرات کے تین دور ہو چکے ہیں۔

مذاکرات کے چوتھے دور میں شرکت کے لیے بھارت روانگی سے قبل پاکستانی وفد میں شامل حکمران پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنماء سینیٹر جہانگیر بدر نے کہا کہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان سرکاری سطح پر ہونے والی بات چیت کو تقویت دینے کے لیے دونوں ملکوں کے قانون ساز تجاویز کا تبادلہ کریں گے۔

’’حکومتی سطح پر جاری بات چیت کو آگے بڑھانے اور جنوبی ایشیا میں تجارتی سرگرمیوں اور امن کے عمل میں پیش رفت کے لیے یہ (غیر رسمی) مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔‘‘

جہانگیر بدر نے بتایا کہ پاکستانی وفد دوطرفہ دیرینہ مسائل کے حل کے علاوہ دونوں ملکوں کے عوام کی فلاح سے متعلق اُمور پر بھی بات چیت کرے گا۔

’’تعلیم، صحت، پانی اور دہشت گردی سمیت تمام مسائل جن پر (دونوں ملک) پہلے بھی بات کرتے رہے ہیں اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان سرکاری سطح پر جو مذاکرات ہوئے ہیں ان کو آگے بڑھانے اور کامیاب کرنے کے لیے یہ مذاکرات منعقد کیے جا رہے ہیں۔‘‘

حکمران اتحاد میں شامل عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاجی عدیل بھی بھارت جانے والے وفد میں شامل ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور اقتدار میں پاک بھارت تعلقات میں بہتری لانے کی کوششوں میں تیزی آئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ سرکاری سطح پر بات چیت کو کامیاب بنانے کے لیے دونوں ملکوں کے قانون سازوں، تاجروں اور عوامی سطح پر رابطوں کا فروغ اشد ضروری ہے۔

سن 2011ء کے اوائل سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارتی روابط میں اضافہ ہوا ہے، اور دونوں ملکوں کے قانون سازوں کے درمیان اس سے قبل ہونے والے مذاکرات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ دوطرفہ تجارت میں اضافہ خطے کے خوشحال مستقبل کے لیے معاون ثابت ہو گا۔

گزشتہ تین برسوں کے دوران دوطرفہ تجارت کا سالانہ حجم ایک ارب 80 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر دو ارب 60 کروڑ ڈالر ہو چکا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے پارلیمانی وفود کہہ چکے ہیں کہ مناسب پالیسی اور انتظامی ڈھانچہ کو موثر بنا کر دوطرفہ تجارت کے سالانہ حجم کو 14 ارب ڈالر تک لے جایا جا سکتا ہے جس کا بالآخر فائدہ دونوں ملکوں کے عوام کو ہوگا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG