رسائی کے لنکس

اس سال افغانستان میں جو 237 امریکی ہلاک ہوئے ہیں ان میں 40 افغانوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں اور ایسے واقعات سے یہ امریکی یقین متزلزل ہو گیا ہے کہ افغان ایسے وفادار شراکت دار ہیں جو غیر ملکیوں سے سیکھنا چاہتے ہیں کہ اپنے ملک کا کیسے دفاع کیا جاتا ہے

افغانستان کی موجودہ صورت حال پر ’لاس انجلس ٹائمز ‘کے ایک تازہ تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ تین سال قبل امریکہ نے جو اعلان کیا تھا کہ سنہ 2014 کے اواخر تک اُس ملک کی دفاع اور سیکیورٹی کی ذمہ داریاں افغانوں کو سونپ دی جائیں گی۔

اس کا اثر طالبان اور القاعدہ عسکریت پسندوں سے بر سر پیکار ایک لاکھ تیس ہزار اتحادی فوجیوں کے حوصلے پر پڑا ہے اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی مشن کی حتمی تاریخ کا یہ اعلان قبل از وقت تھا جس کے نتیجے میں وہاں سے بے ترتیبی کے عالم میں غیر ملکی فوجوں کا انخلا شروع ہوا ۔ ہالینڈ نے دو سال قبل وہاں سے اپنا فوجی دستہ واپس منگا لیا تھا، کینیڈا کا دستہ پچھلے سال نکل آیا تھا، جب کہ فرانس کے فوجی بھی ا س سال کی آخر تک افغانستان کی جنگ سے کنارہ کش ہو جائیں گے۔

اخبار سیکیورٹی کے ماہرین کےحوالے سے کہتا ہے کہ امریکہ کی قیادت میں باغیوں کو شکست دینے کی جو مہم شروع کی گئی تھی اس میں کئی کامیابیاں ضرور ہوئی ہیں اور گیارہ سال قبل امریکی قیادت میں اس حملے کے بعد سے عام افغان شہریوں کی روزمرّہ کی زندگی میں معتدبہ بہتری آئی ہے۔ لیکن مکمل غیر ملکی انخلا تک، ایک مستحکم افغانستان اپنے پیچھے چھوڑنے کے حتمی نصب العین کو اس رجحان سے خطرہ لاحق ہے جو بہت سوں کی نظر میں انخلا کے اعلان کا نتیجہ ہے اور جس میں ہو یہ رہا ہے کہ پولیس اور ملیشیا کی سبز وردیوں میں ملبوس رنگروٹ اپنی بندوقیں غیر ملکی تربیت دینے والوں کے خلاف چلا رہے ہیں۔

اس سال افغانستان میں جو 237 امریکی ہلاک ہوئے ہیں ان میں 40 افغانوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں اور ایسے واقعات سے یہ امریکی یقین متزلزل ہو گیا ہے کہ افغان ایسے وفادار شراکت دار ہیں جو غیر ملکیوں سے سیکھنا چاہتے ہیں کہ اپنے ملک کا کیسے دفاع کیا جاتا ہے۔

اخبار نے نو ٹرے ڈیمُ یونیورسٹی کے محقق ڈیوڈ کارٹ رائٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایک سیاسی متبادل آزمانے کی ضرورت ہے اور انہوں نے رینڈ کارپوریشن کی اس تجویز سے اتّفاق کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں بات چیت کے لئے ایک فورم ترتیب دیا جائے جو صدر حامد کرزئی کی حکومت، حریف سیاسی قوتّوں اور طالبان پر مشتمل ہو جب کہ امریکہ اور افغانستان کے پڑوسی ملکوں کے مابین متوازی مذاکرات ہونے چاہئیں ۔

کارٹ رائٹ کو تسلیم ہے کہ بین الاقوامی برادری میں کسی نئے افغان منصوبے کو آزمانے میں کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے، خاص طور پر اگراس میں طالبان کو شامل کیا گیا ہو۔

لیکن اس کا استدلال ہے کہ پچھلے ایک عشرے کے دوران افغانستان میں جو معاشرتی پیش رفت ہوئی ہے وہ غیرملکی فوجوں کے انخلا کے بعد خانہ جنگی کے شروع ہوتے ہی خاک میں مل جائے گی ۔ ان کایہ بھی ماننا ہے کہ کسی فوجی مشن کے ذریعےپائدار امن کے قیام کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

’شکاگو ٹربیون‘ ایک ادارئے میں کہتا ہے کہ صدر اوباما نے اب تک شام میں امکانی امریکی فوجی مداخلت سےمتعلق سوالوں کا جواب دینے سے گریز کیا ہے۔

اس ملک میں سرکاری فوجوں کے ہاتھوں ہزاروں شہریوں کا خون ہوا ہے۔ لیکن، صدر اوباما کے لہجے میں پیر کے روز بڑی تُندی آ گئی جب انہوں نے براہ راست امریکی کاروائی کی دہمکی دی اگر دمشق نے کیمیائی یا جراثیمی ہتھیار وں کا یا تو خود استعمال کیا یا انہیں القاعدہ جیسے حامی جنگجو ٹولوں کو فراہم کیا۔

اخبار کہتا ہے کہ امریکہ کو عرصے سے شام میں ذخیرہ کئے گئے وسیع پیمانے کی تباہی لانے والے ہتھیاوں پر پر یشانی رہی ہے جن میں مسٹرڈ گیس ، وی ایکس اور سرین گیس اور انہیں ٹھکانے تک لے جانے والے مزائیل شامل ہیں اور جو دہشت گردوں کے ہاتھ آ سکتے ہیں ، اخبار کے بقول شام اور اس کے پڑوس میں ایسے بہت سے غلط قسم کے لوگ موجود ہیں جو صدر اسد کے قریبی اتحادی ہیں۔

اخبار کہتا ہے کہ صدر اوباما نےپیر کو یہ بھی کہا کہ اُنہوں نے کسی فوجی کاروائی کا حکم تو نہیں دیا، لیکن اس کی وضاحت کردی کہ امریکی عہدہ داروں نے کئی ہنگامی منصوبے وضع کر رکھے ہیں۔

اخبار کہتا ہےکہ اگرچہ شام کے اتحادی روس اور چین ، صدر اوبا ما کے اس انتباہ کوالٹی میٹم نہیں سمجھتے۔ وہ یقیناًً اسے تقریباً اس کے برابر سمجھتے ہیں۔ ان کے الفاظ کے امریکہ کے اندر بھی کچھ سیاسی فوائد ہیں۔سخت بیان دے کر وہ بالواسطہ طور پر اسرائیل کو تقویت دے رہے ہیں جو شام کا پڑوسی ہے اور جس کے عہدہ دار اشارہ دے چکے ہیں کہ اگر انہیں محسوس ہوا کہ یہ ہتھیار دوسرے ہاتھوں میں چلے گئے ہیں اور اسرائیل کے لئے خطرہ بن گئے ہیں تو اس صورت میں وہ شام میں مداخلت کر سکتے ہیں۔

امریکہ کی صدارتی انتخابی مہم کے اب آخری تین ماہ رہتے ہیں ۔

اور ’بوسٹن گلوب‘ کہتا ہے کہ اِس میں ری پبلکن امیدوار مٹ رامنی کو صدر اوباما کے مقابلے میں اشتہار وں کے لئے کہیں زیادہ نقدی دستیاب ہوگی۔ اب تک، اخبار کے بقول، پُوری گرمیوں کے دوران مسٹر اوباما اپنی انتخابی مہم پر مسٹر رامنی کے مقابلے میں تین گنا زیادہ خرچ کرتے آئے ہیں ۔ لیکن، یہ صورت حال عنقریب بدلنے والی ہے۔ اس کے علاوہ، اب مسٹر رامنی کو ری پبلکن ’سیوپر پیکس‘ سے بھی بھاری فائیدہ ہوگا جو اسی قسم کے ڈیموکریٹک ’سیوپر پیکس‘ کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیسہ انتخابی مہم پر لگا رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG