رسائی کے لنکس

آبی وسائل زمین پر آباد انسانوں کی روزمرہ کی اہم ضروریات پوری کرتے ہیں، اور ہماری بقا کے لیے یہ امر لازم ہے کہ ہم سمندروں کو بہتر حالت میں رکھنے میں معاون بنیں

ماحولیات سے متعلق ایک نیا نظام ترتیب دیا گیا ہے جس کی مدد سے اس بات کا باآسانی جائزہ لیا جاسکتا ہے کہ دنیا کے سمندرکس حد تک صاف ستھرے ہیں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ماحول کی کیفیت کا درست جائزہ لینے سے سمندروں کے بارے میں ہماری سوچ میں تبدیلی آئے گی،یہ بھی پتا چلے گا کہ سمندروں میں کس عنصر کی کمی ہے اور ماحولیات کے ضمن میں مزید کیا کچھ کیا جاسکتا ہے۔

گریگ اسٹون سمندروں کے تحفظ کے بین الاقوامی ادارے سے وابستہ اعلیٰ سائنس دان اور ادارے کے نائب صدر؛ اور ساتھ ہی عالمی اقتصادی فورم کے سمندوں کے بارے میں گلوبل ایجنڈا کونسل کے نائب سربراہ ہیں۔

Plastics in Oceans: More Damaging Than Climate Change

Plastics in Oceans: More Damaging Than Climate Change



وہ کہتے ہیں کہ وضع کردہ معیار کے ذریعے پہلی بار عالمی طور پر اور عین سائنسی اعتبار سے اور شفاف طریقےسے پتا لگایا جاسکتا ہے کہ سمندروں کا ماحول کس حد تک صاف ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ وضع کردہ معیار کے ذریعے پالیسی بنانے والوں کودرکار رہنمائی بھی میسر آئے گی، کیونکہ آبی وسائل زمین پر آباد لوگوں کی روزمرہ کی اہم ضروریات پوری کرتے ہیں، اور ہماری بقا کے لیے یہ امر لازم ہے کہ ہم سمندروں کو بہتر حالت میں رکھنے میں معاون بنیں۔

اسٹون نے جنوبی بہر الکاہل میں واقع کُک نامی جزیرے سے ’وائس آف امریکہ‘ کے ساتھ گفتگو کی، جہاں جزیروں پر آباد

ممالک کے سربراہان اِس وقت سمندروں کی دیکھ بھال کے مشترکہ ایجنڈے پر اجلاس کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے سمندروں کودنیا کےوسائل کا اہم ترین ذریعہ قرار دیا۔

اُن کے بقول، آپ اُس چیز کا درست شمار نہیں رکھ سکتے جس کے بارے میں آپ کو صحیح معلومات میسر نہ ہو ۔

اسٹون نے Ocean Health Indexکا محاورہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ اِس سے کم علمی اور غلط فہمی کو کافی حد تک دور کیا جاسکے گا۔

چاہے آپ امریکہ کے ساحل پر رہتے ہوں یا افریقہ کے وسط میں۔ اسٹون کہتے ہیں کہ آپ کو فکر ہونی چاہیئے کہ دنیا کے سمندر کس حال میں ہیں۔

سمندروں کی حالت جاننے کےلیے اندازاً 200مختلف معیار وضع کیے گئے ہیں۔ سال میں ایک مرتبہ سائنس داں اس معیار کا استعمال کرتے ہوئےبتائیں گے کہ سمندر کس حال میں ہیں۔
XS
SM
MD
LG