رسائی کے لنکس

اِس سال اب تک اوسط سے کم بارشیں ہوئی ہیں: ذرائع

  • نفیسہ ہودبھائے
  • واشنگٹن

’مون سون سے قبل پیش گوئی کی گئی تھی کہ اس سال ملک میں پانچ سے 15فی صد زیادہ بارشیں ہوں گی، جب کہ جولائی اور اگست کے پہلے پندرہ دنوں تک 40 سے 43فی صد کم بارشیں ہوئیں‘

نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں موسلادھار بارشوں سے اب تک 750 گھروں کو نقصان پہنچ چکا ہے، جب کہ پاکستان کے بالائی علاقوں سمیت کشمیر میں اب تک 24ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں۔

جمعرات کو ’وائس آف امریکہ‘ کے پروگرام ’اِن دی نیوز‘ میں گفتگو کرتے ہوئے، ادارےکے ایک رکن، احمد کمال نے کہا کہ زیادہ تر ہلاکتیں پاکستانی کشمیر کے ضلع باغ میں مکانات کی چھتیں گرنے سے ہوئیں، جب کہ لگ بھگ 1000 خاندانوں کو مجبوراً محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

اُنھوں نے بتایا کہ مون سون سے قبل پیش گوئی کی گئی تھی کہ اس سال ملک میں پانچ سے 15فی صد زیادہ بارشیں ہوں گی، جب کہ جولائی اور اگست کے پہلے پندرہ دنوں تک 40 سے 43فی صد کم بارشیں ہوئیں۔

آڈیو رپورٹ سننے کے لیے کلک کیجیئے:



راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک غیر سرکاری ادارے کے ترجمان جاوید ابراہیم کا کہنا تھا کہ جولائی میں پیش گوئی کی بنسبت کم بارشیں کم ہوئیں، جب کہ پچھلے چار دنوں کے دوران بالائی ملک کے علاوں کشمیر میں بہت زیادہ بارشیں ہوئی ہیں، جن کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آئی۔

ادھر، حیدرآباد سے ایک غیر سرکاری تنظیم، ’سینٹر فور اکانامک اینڈ سوشل ڈولپمنٹ‘ کے سربراہ، ناصر پنھور کا کہنا تھا کہ اس سال اب تک سندھ اب تک خشک سالی کا شکار ہے، جب کہ 2010 اور 11ء کی تباہ کُن موسلہ دھار بارشوں کا باعث جہاں قدرت تھی وہاں انسانی کوتاہیاں بھی اِس کی ذمہ دار تھیں۔ اِس سلسلے میں اُنھوں نے زیریں ڈھانچے کے نہ ہونے یا کم ہونے، ندی نالوں اور ڈرینیج کے پانی کے بہاؤ میں حائل رکاوٹیں اور جنگلوں کے بے دریغ کاٹے جانے کا حوالہ دیا۔
XS
SM
MD
LG