رسائی کے لنکس

ڈرون حملوں پر پاکستان امریکہ ’مفاہمت‘ کی صورت کیا ہو؟

  • واشنگٹن

’عسکریت پسند نہ صرف امریکہ بلکہ پاکستان کےمفادات کو بھی نشانہ بناتے ہیں اور سرحدی دراندازی سے دونوں فریقوں کو جو نقصان پہنچ رہا ہے اُس کا بھی بہترین حل یہی ہے کہ ڈرون حملوں کے ذریعے عسکریت پسندوں کو کمزور اور اُن کی نقل و حرکت کو محدود کیا جائے‘

پاکستان کے دفتر ِخارجہ کے ترجمان کےکا کہنا ہے کہ مشتبہ امریکی ڈرون حملوں کے متنازعہ معاملے کے حل کے لیے پاکستانی حکومت امریکہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، اور اس ضمن میں، مختلف تجاویز زیر غور ہیں اور اُمید ہے کہ اس مسئلے کا ایک ایسا حل تلاش کر لیا جائے گا جو پاکستان اور امریکہ دونوں کے لیے قابل قبول ہو۔

’وائس آف امریکہ‘ کے پروگرام ’اِن دی نیوز‘ میں امریکی اور پاکستانی تجزیہ کاروں سے پوچھا گیا کہ ایسا کون سا حل ہو سکتا ہے جوسانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے کےمصداق دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔ یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ باہمی تعلقات میں کشیدگی کے دِنوں میں تو ڈرون حملے بند ہو گئے اور حالات معمول کی طرف آتے ہی ڈورن طیارے پھر شروع ہو گئے؟

واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک’امریکن فارن پالیسی انسٹیٹوٹ‘ سے وابستہ تجزیہ کار جیف سمتھ کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں کے بارے میں امریکہ کے صدر اوروزیرِدفاع واضح کر چکے ہیں کہ یہ حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہیں اور خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان کی فوجیں شمالی وزیرستان میں محفوظ پناہ گاہیں بنائے، عسکریت پسندوں کے تعاقب سے گریز کریں گی تو امریکہ کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا۔

آڈیو رپورٹ سننے کے لیے کلک کیجیئے:


جیف سمتھ کا کہنا تھا کہ عسکریت پسند نہ صرف امریکہ بلکہ پاکستان کے مفادات کو بھی نشانہ بناتے ہیں اور سرحدی دراندازی سے دونوں فریقوں کو جو نقصان پہنچ رہا ہے اس کا بھی بہترین حل یہی ہے کہ ڈرون حملوں کے ذریعے عسکریت پسندوں کو کمزور اور ان کی نقل و حرکت کو محدود کیا جائے۔

پاکستان کے ممتاز دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ (ر) طلعت مسعود کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں کے تنازعے کا ایک حل تو یہ ہو سکتا ہے کہ پاکستان اور امریکہ انٹیلی جنس شیئر کریں اور جو بھی حملے کیے جائیں وہ پاکستان کے علم میں لا کر ہوں اور حملوں کے ہدف کا بھی پہلے سے علم ہو۔

اُنھوں نے کہا کہ ڈروں حملوں کو جائز تو قرار نہیں دیا جاسکتا، لیکن وہ عسکریت پسند بھی پاکستان کی خودمختاری کو پامال کر رہے ہیں جو پاکستان کے اندر غیرقانونی طور پر موجود ہیں اور نہ صرف پاکستان بلکہ دیگرفریقوں کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ اورتجزیہ کار تنویراحمد خان کا کہنا تھا کہ ڈروں حملوں کی قانونی حیثیت اور پاکستان کی خود مختاری کی بحث کے لیے بہت وقت درکار ہوگا۔ یہ حملے مجموعی طور پر غیرسودمند ہیں مگران حملوں کے پیچھے موجود مجبوریاں کیا ہیں، ان کو پاکستان میں نہیں سمجھا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت عسکریت پسندی کے بارے میں اپنا موٴقف واضح کرے اور ملک کے عام عوام کو اعتماد میں لے۔ ابہام مسائل کو جنم دے رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG