رسائی کے لنکس

پرانے طور طریقوں والا رہن سہن

  • واشنگٹن

Young Americans Turn to Old-Fashioned Domestic Lifestyle

Young Americans Turn to Old-Fashioned Domestic Lifestyle

کیمیائی کھاد اور جراثیم کُش ادویہ کے بغیر کاشت کی جانے والی کپاس کے ریشے زیادہ نرم ہوتے ہیں، اور اِن سےبنے ہوئےکپڑے میری کمسن بچیوں کے جسم کے لیے آرام دہ ہوتے ہیں

امریکیوں کی ایک بڑھتی ہوئی تعداد اپنی خوراک خود پیدا کرنے لگی ہے، اپنا لباس خود ہی تیار کر رہی ہے اور عام طور پر اپنے آباؤ اجداد کی نسل کے رہن سہن اور طور طریقوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے پر زور دے رہی ہے۔

حالانکہ، اس سلسلے میں ابھی تک کوئی باقاعدہ اعداد و شمار سامنے نہیں آئے، لیکن کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ اپنے اوپر انحصار کی یہ مہم 40برس سے کم عمر کی پود میں رواج پکڑتی جارہی ہے۔

شنون کلائین اور اُن کی بیٹی ایلس گذشتہ موسم گرما کے دوران خاندان کی سبزی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے گھر کے باغ میں لگائی گئی فصل کو سمیٹ رہی ہیں، جب کہ اُن کے شوہر جیوف ڈلانو سردیوں میں اگائی جانے والی سبزیاں کاشت کرنے کے لیے زمیں تیار کررہے ہیں۔

بالٹی مور میں رہنےوالے اس خاندان کی سوچ یہ ہے کہ کس طرح قدرت سےقریب رہا جاسکتا ہے۔

شنون کے بقول، ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنی غذا خود اگائیں، کیونکہ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کام یہ کس طرح ہوتا ہے۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ ہم اپنے خاندان کی غذائی ضروریات کس طرح پوری کر سکتے ہیں۔

پرانے طور طریقے:

کلائین اپنی کمسن بچیوں کےلیے کپڑے بھی تیار کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ کیمیائی کھاد اور جراثیم کُش ادویہ کے بغیر کاشت کی جانے والی کپاس زیادہ نرم ہوتی ہے اور اِ س سےبنے ہوئےکپڑے پہننے سے میری کم عمر بچیوں کے جسم کو تکلیف نہیں ہوتی۔ اُنھیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ میں نے یہ کپڑا اُن ہی کے لیےبنایا ہے۔ میری بڑی بیٹی مجھ سے کہتی ہیں کہ اُسے اِس بات پر فخر ہے کہ یہ کپڑےمیں نے تیار کیے ہیں۔

کلائین بچوں کے کپڑے بھی سیتی ہیں اور آن لائن یا پھر مصنوعات کی نمائشوں میں فروخت کرتی ہیں۔

گھر پر رہ کر کیا جانے والا یہ کاروبار اُن کے لیے یہ ممکن بناتا ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو زیادہ وقت دے سکیں۔ آج وہ الیس کے ساتھ مل کر’ اسکن لوشن‘ تیار کر رہی ہیں، اور ساتھ ہی بچوں کے ساتھ وقت گزار رہی ہوں۔

گھر والوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا:

کلائین اُن نوجوان امریکیوں میں سے ایک ہیں جن کی بڑھتی ہوئے تعداد گھر سےجُڑے رہنے والے رہن سہن کو گلے لگا رہی ہیں، جو دراصل اُن کے دادا اور نانا کی پیڑھی سے تعلق رکھتا ہے۔

ثقافت کے عنوان پر لکھنے والی ایملی مچار نے اسکائیپ کے ذریعے دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ وہ اِس تحریک پر ایک کتاب لکھ رہی ہیں، جسے اُنھوں نے نئی گھریلو زندگی
New Domesticityکا نام دیا ہے۔

سماجیات داں بیٹسی گریئر کا کہنا ہے کہ اپنی خوراک آپ پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بیتے ہوئے وقت کے ساتھ اپنا رشتہ استوار کرنا۔

شنون اِس بات سے اتفاق کرتی ہیں۔ اُن کے بقول، میں کئی خواتین سے ملی ہوں جنھوں نے کپڑے سینا، خوراک کو محفوظ بنانا اورباغبانی کی طرف دھیان دینا شروع کیا ہے، اور حقیقت میں اُنھیں یہ مصروفیت بھاتی ہے۔

بظاہر متعدد امریکیوں کو اس بات کا احساس ہو گیا ہے کہ آج کی تیز رفتار زندگی نے بہت سی قابل رشک روایات کو قصہ پارینہ بنا ڈالا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG