رسائی کے لنکس

امریکی اخبارات سے: ملاداداللہ کی ہلاکت کے اثرات


امریکی اخبارات سے: طالبان سے مذاکرات

امریکی اخبارات سے: طالبان سے مذاکرات

اخبار کے خیال میں اس کی ہلاکت سے پاک افغان سرحد پر نیٹو ، پاکستانی اور افغان افواج کے باہمی تعلقا ت میں بہتری آنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹربیون

انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹریبیون کہتا ہے کہ پاکستانی طالبان کمانڈر ملّا دادا للہ کی افغانستان میں ایک فضائی حملے میں ہلاکت کا باجوڑ کی لڑائی پر اثر پڑے گا۔ جہاں پاکستانی افواج سنہ 2008 سے طالبان سےبر سر پیکار ہے۔ اخبار کے خیال میں اس کی ہلاکت سے پاک افغان سرحد پر نیٹو ، پاکستانی اور افغان افواج کے باہمی تعلقا ت میں بہتری آنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے ۔ یہ تعلقات حالیہ مہینوں کے دوران ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیوں کی وجہ سے خراب ہوئے ہیں،اور پاکستانی عہدہ داروں کا الزام ہے کہ نیٹو ، کنّڑ اور نورستان صوبوں میں پناہ لینے والے پاکستانی طالبان کو پاکستان کے اندر حملے کرنے سے روکنے میں ناکام ہوا ہے۔اور جون کے مہینے میں یہ الزامات حد سے زیادہ بڑھ گئے۔ جب طالبان نے گھات لگا کر ایک حملے میں13 پاکستانی فوجیوں کوہلاک کردیا ۔ جن میں سے سات کے گلے کاٹ دئے گئے تھے۔ حتیٰ کہ بعض پاکستانی عہدہ داروںکا یہ الزام بھی تھا کہ نیٹو اور افغان فوجیں۔درپردہ ان باغیوں کی مدد کرتی ہیں۔اس کے جواب میں افغان فوج کا یہ الزام ہےکہ پاکستانی فوجیں سرحد پار سے دور دراز دیہات پر توپ خانے سے گولہ باری کرتی رہی ہیں۔جس میں بیسیوں شہری ہلاک ہوئے ہیں۔اور اخبار کے مطابق پچھلے ماہ کئی مرتبہ ایک دوسرے پر گولہ باری کی گئی ہے۔

دوسری طرف نیٹو کا پاکستان پر الزام ہےکہ اس کی سرزمین سے ، خاص طور پرپر، شمالی وزیرستان سے جہاں حقّانی نیٹ ورک کا غلبہ ہے ، سی آئی اے کی قیادت میں ایک مہم جاری ہے ،جس میں سرکردہ امریکی عہدہ داروں کے بقول ایک حملے کے دوران شائد اس نیٹ ورک کا لیڈر بدر الدّین حقّانی ہلاک ہو گیا ہے۔ اور اب ملّا داد اللہ افغانستان میں نیٹو کے ہاتھوں ہلاک ہونے والا سب سے زیادہ سینیر پاکستانی کمانڈر بن گیا ہے۔ یہ شخص کمانڈر بنا دیا گیا تھا ، جب اس کے پیش رو ملّا فقیر محمّد کو پاکستانی حکومت کے ساتھ بغیر اجازت امن مذاکرات کرنے کی پاداش میں بر طرف کر دیا۔

ملا فقیر محمد اب ایک حریف طالبان دھڑے کا لیڈر ہے ۔ اس نے بھی افغانستان میں اڈّہ قائم کیا ہوا ہے جہاں سے وہ پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر حملے کرتا رہتا ہے۔

سین فرانسسکو ایگزیمینر

سین فرانسسکو ایگزیمینر اخبار کے مطابق فلوریڈا میں رواں سال کے ری پبلکن قومی کنونشن کے موقع پر ڈزنی اور پبلک براڈکاسٹنگ کے لئے سائنسی وڈیو بنانے والے ماہر ولیم سین فرڈ نے ایک نئے وڈیو میں والدین کو خبر دار کیاہے کہ وہ اپنے بچوں کو کری ایشنزم سےبچائیں ۔ کیونکہ ان کے بقو ل اس سے نہ صرف انہیں بلکہ امریکہ کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس سے ان کے سائنسی ادراک او ر ترقّی بلکہ خود امریکہ کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس ملک کے مستقبل کے لئے ایسے ووٹروں اور ٹیکس گذاروں کی ضرورت ہے۔ جنہیں سائنس کی شُدھ بُدھ ہو اور ایسے انجنئیروں کی بھی جو تعمیر کے ماہر ہوں اور مسائل سُلجھا سکیں۔

اپنے اس وڈیو کے پیغام میں سین فرڈ کا کہنا ہے ، کہ باوجودیکہ دنیا کی بہت سی ایجادات کا سہرا امریکہ کو جاتا ہے، ارتقاء کی تھیوری سے انکار نے بھی اس کو یکتا بنا دیا ہے۔ جس کی جُزوی وجہ امریکہ کے دائیں بازو کی عیسائی بنیادپرستی ہے ۔ اسی طرح ترقی یافتہ ملکوں میں یہ واحد ملک ہے ہاں عوام کی صحت کی سو فیصد نگہداشت نا پید ہے۔اور اس پیغام کے مطابق اس قسم کی نگہداشت کی مخالفت دائیں بازُو کے سیاسی طبقے سے ہوتی ہے

آخر میں سین فرڈ کہتے ہیں کہ امریکہ کو زندگی کےمختلف شعبوں میں قیادت کا جورُتبہ حاصل ہے۔ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی عدم موجودگی میں کبھی نہ ہوتا۔

وال سٹریٹ جرنل

وال سٹریٹ جرنل نےہندوستان میں کمیونی کیشن ٹیکنالوجی لگائی جانے والی قدغنوں پر کڑی تنقید کی ہےاور اس کا سوال ہے کہ دنیاکی اس سب سے بڑی جمہوریت کو گُوگل ، فیس بُک اور ٹوٕٹر سے کیوں خوف آتا ہے۔ بنگلور ، حیدرآباد اور پُونے جیسے شہروں سےخوف کے مارے جو لگ بھگ پچاس ہزار لوگ بھاگے ہیں اس کے بعد سے اس ٹیکنالوجی پر یہ سنگین پابندیاں عائد کی گئی ہیں، لمبے لمبے ٹیکسٹ پیغامات کی 15 دن کے لئے مناہی کردی گئی ہے جن کی وجہ سے مبیّنہ طور پر جنوب میں رہنے والے شمال مشرقی باشندوں پر مسلمانوں کی طرف سےحملوں کی افواہیں پھیلتی ہیں۔ حکومت نے سوشل میڈیا پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ وہ اشتعال انگیز خطوط اور تصاویر عُجلت کے ساتھ نہیں ہٹا تا۔ اخبار کہتا ہے کہ ابھی تک کسی نے ایسے کوئی معتبر شواہد پیش نہیں کئےکہ سوشل میڈیا پر تشدّد کے ایک بھی واقعے کی ذمّہ داری آتی ہے اور نا ہی نئی دہلی نے اس الزام کا کوئی ثبوت فراہم کیا ہے کہ بیشتر متنازعہ اشتعال انگیز مواد کی ذمہ داری پاکستان پر آتی ہے۔

اخبار کہتا کہ ہندوستان کی ایک ارب بیس کروڈ کی آبادی میں سے انٹرنیٹ صرف دس فی صد کے استعمال میں ہے۔
XS
SM
MD
LG