رسائی کے لنکس

ملک سے کنڈا سسٹم کا خاتمہ کردیا جائے تو بجلی کی لوڈشیڈنگ میں خاطر خواہ حد تک کمی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ایسا نظام رائج کرے جس سے معلوم کیا جاسکے کہ کس جگہ کتنی بجلی استعمال کی جارہی ہے اور بلوں کی ادائیگی کتنی ہورہی ہے۔

پاکستان میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ دن بدن طویل ہوتا جارہا ہے، پاکستان کا ہر شہر ہر حصہ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ شہری کئی کئی گھنٹے بجلی سے محروم رہتے ہیں۔

پاکستان کا ایک اہم مسئلہ لوڈشیڈنگ ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ بجلی کی چوری میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ بجلی کے مخلتف پولز میں غیر قانونی طریقے سے تار لگاکر بجلی چوری کی جاتی ہے ۔ اس طرح کے تار لگاکر غلط طریقے سے بجلی حاصل کرنے کو کنڈا لگانا کہا جاتا ہے۔ بجلی کا تار پول میں نصب کردیا جاتا ہے اور بجلی چرالی جاتی ہے۔ اس طرح کے کنڈوں کا جال ملک کے ہر حصے ہر کونے میں دیکھنے میں آتا ہے جسے کنڈا کلچر کا نام دیا گیا ہے۔



پاکستان میں کنڈہ کلچرکے ذریعے بجلی کی چوری کا عمل بہت عام ہے۔ پاکستان کے اکثرشہروں کے مختلف علاقوں میں کنڈہ سسٹم رائج ہے، غیر قانونی طریقے سے گھروں، بازاروں اور مختلف ادارے بجلی چوری کررہے ہیں جن کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی۔

پاکستان کا شہر ہو یا دیہات بجلی چوری کا غیر قانونی نظام کھلے عام جاری ہے، گاؤں اور دیہاتوں میں بجلی چوری ہورہی ہے دیہات کے رہنے والے لوگ زیادہ تر غریب ہوتے ہیں اورصرف دو کمروں پر مشتمل جھونپڑے نما گھروں میں رہتے ہیں ان کے گھر میں بجلی سے چلنے والی چند چیزیں ہی ہوتی ہیں۔ غربت کی وجہ سے وہ بجلی کے بل کی ادائیگی بھی نہیں کرپاتے۔ اس لئے بجلی کے غیر قانونی طریقے کو اور آسان حصول سمجھتے اس لئے دیہاتوں میں چوری کی بجلی کا حصول عام ہے۔

جبکہ شہری علاقوں میں تو ہر ایک گھر میں ایک سے بڑھ کر ایک الیکٹرانک اشیا موجود ہوتی ہیں جن کو چلانے کیلئے اگر زیادہ بجلی استعمال کی جائے تو بل بھی لمبا چوڑا آتا ہے۔ اس لئے شہری بل کی ادائیگی سے بچنے کیلئے کنڈوں کا سہارہ لیتے ہیں جو کہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔

بجلی کی چوری کی سب سے بڑی وجہ مہنگائی کے باعث بجلی کی قیمتوں کا بڑھ جانا اور لوڈشیڈنگ کے طویل دورانیہ ہے۔ جس نے کنڈہ کلچر کو فروغ دیا ہے۔ شہری کھلے عام بجلی کی چوری کرتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی سخت قانونی کارواءی نہیں کیجاتی۔ اگر کوئی کارواءی ہوتی بھی ہے توشہریوں کی جانب سےعارضی طور پرتو کنڈہ ہٹالیا جاتا ہے مگر چیکنگ کیبعد دوبارہ کنڈے ڈال لیے جاتے ہیں اور بجلی کی چوری جاری رکھی جاتی ہے۔

پاکستان میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ دن بدن طول اختیار کرتا جارہاہے۔ ، لوڈشیڈنگ ختم ہونیکے بجائے بڑھتی جارہی ہے جس سے شہری اذیت کا شکار ہیں اور بنیادی زندگی بھی متاثر ہو کر رہ گئی ہے۔
بجلی کی لوڈشیڈنگ میں اضافے کے باعث کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوجاتی ہیں اور کاروباری ادارے اور چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والے بےشمار کارخانے بھی بجلی چوری کرلیتے ہیں اوراپنا کاروبار چلانے کیلئے کنڈوں کا سہارا لیتے ہیں۔

ایک طرف لوڈشیڈنگ ہے تو دوسری طرف مہنگائی شہری جائیں تو کہاں جائیں لوڈشیڈنگ کے ستائے شہری بجلی کی نعمت سے محروم رہتے ہیں توغیر قانونی طریقے سے بجلی ھاصل کرنے کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں لوڈشیڈنگ سے اتنا تنگ ہیں کہ ہرشخص چاہتا ہے کسی نہ کسی طرح بجلی مل جائے خواہ وہ چوری ہی کی کیوں نہ ہو۔

ایک مقامی شہری نے بجلی چوری پر بات کرتے ہوئے وائس آف امریکا کو بتایا کہ ہم بل بھی بھرتے ہیں اور لوڈشیڈنگ بھی سہتے ہیں تو کنڈہ نا لگائیں تو کیا کریں؟ حکومت پاکستان اس سلسلے میں کچھ بھی نہیں کررہی تو عوام کیا کرے عوام اور غریب کی کوئی نہیں سنتا ہے۔

ایک اور شہری نے وی او اے کو بتایا کہ دن میں بار بار لائٹ جاتی ہے بچے اور بڑے سب پریشان رہتے ہیں، اور گرمی نے اوپر سے برا حال کردیا ہے اس لئے میں نے کنڈہ لگایا ہے تاکہ رات میں تو انسان سکون سے سوجائے صبح کام پر بھی جانا ہوتا ہے، زندگی تو گزارنی ہے نا۔

ایک اور خاتون نے بتایا کہ ہم نے کبھی کنڈہ نہیں لگایا تھا اور ہم وقت پر بجلی کا بل بھی ادا کرتے تھے مگر بجلی کے بل اتنا زیادہ آنے لگا کہ حد ہوگئی اس لئے کنڈہ لگالیا۔

حکومت پاکستان کے بجلی کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ تھرمل پاورز سے بجلی پیدا کیجاتی ہے جو تیل سے چلائے جاتے ہیں، اور ان کے تیل کی قیمتیں براہ راست عالمی منڈیوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ جیسے ہی تیل کی قیمتیں عالمی منڈی کے لحاظ سے بڑھائی جاتی ہیں وہ ملکی بجلی کی پیداوار پر بھی اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ اس لئے حکومت کو بجلی مہنگی کرنا پڑتی ہے،اور بجلی چوری کیلئے نئے طریقے بنائیں گے۔

مگرحکومت کی جانب سے لوڈشیڈنگ کنٹرول کرنے اور بجلی چوری اور کنڈا کلچر جیسے نظام کے خاتمے کے دعوے تو کئے گئے مگر ان پر آج تک کوِئی سخت قانون نہیں بنایا گیا نا کوئی موثر اقدام کیا گیا۔

ایک حکومتی وزیر کے گھر کوئی تقریب تھی۔ روشنیوں کے لیے بجلی کنڈا سسٹم کے ذریعے لی جا رہی تھی۔ پاکستان کے میڈیا کے ہر چینل سے یہ خبر نشر ہوئی تھی مگر اس وزیر سے کسی قسم کا کوئی سوال نہیں کیا گیا۔

گزشتہ سال بجلی کے بحران کے حوالے سے ایک سروے رپورٹ مرتب کی گئی تھی جس میں یہ نتائج سامنے آئے کہ پاکستان میں ہر سال تین سو ارب کے لگ بھگ بجلی چوری ہوتی ہے۔ جس میں سر فہرست فاٹا اور خیبرپختونخواہ کے علاقے شامل ہیں۔ جنوبی پنجاب کے حصوں میں بھی بجلی چوری کا رجحان دیکھنے میں آرہاہے جہاں چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی بجلی چوری کی جارہی ہے۔ سندھ کے بیشتر علاقوں سے بھی بجلی چوری ہورہی ہے، غرض یہ کہ ملک میں ہر جگہ کنڈے لگالئے گئے ہیں اور پاکستان کے ہر حصے سے بجلی چوری کی جارہی ہے۔

سندھ میں کنڈہ سسٹم کے خلاف کاروائی کیلئے حکومت کی جانب سے مختلف طریقہ کار اختیار کرنے کی حکمت عملی طے کردی گئی تھی جس میں اس کمیٹی کو پولیس فورس اور مجسٹریٹ بھی فراہم کرنے کی یقین دہائی کرائی جانی تھی۔ملک میں کنڈا سسٹم کو ختم کرنے کیلئے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں ہر گلی ہر محلے میں کنڈے کا کلچر کھلے عام جاری ہے۔

بجلی بحران کے باعث پاکستان الیکٹرک سپلائی کمپنی نے ملک بھر میں ایک ہی جگہ پر بجلی کے دو یا اس سے زائد کنکشن لگانے پر فوری طور پر پابندی عائد کردی ہے۔ واپڈا کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ جہاں بجلی کے دو کنکشنز جاری کئے گئے تھے وہاں سے کنڈے زیادہ برآمد ہوءے ہیں اور ان صافین نے بجلی کے بل کی ادائیگی بھی نہیں کی تھی جسکی وجہ سے ایکساتھ دو کنکشنز پر پابندی لگائی گئی۔

ملک سے کنڈا سسٹم کا خاتمہ کردیا جائے تو بجلی کی لوڈشیڈنگ میں خاطر خواہ حد تک کمی ممکن بنائی جاسکتی ہے حکومت کو چاہئے کہ وہ ایسا نظام رائج کرے جس سے معلوم کیا جاسکے کہ کس جگہ کتنی بجلی استعمال کی جارہی ہے اور بلوں کی ادائیگی کتنی ہورہی ہے، بجلی کی لوڈشیڈنگ میں کمی کرنے کیلئے لائحہ عمل اختیار کیا جائے کہ عوام کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے پاکستان کے مسئلوں میں سے اہم مسئلے لوڈشیڈنگ میں بھی کافی ھد تک کمی کرنے میں مدد ملے گی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG