رسائی کے لنکس

مس پاکستان ورلڈ مقابلہ حسن کی پہلی حسینہ پاکستانی نژاد زینب نوید کا تعلق امریکہ، دوسرے ٹائٹل کی حقدار پاکستانی نژاد مس نصیرکینیڈا سے، جبکہ تیسرا تاج پہننے والی پاکستانی نژاد برطانوی حسینہ مس صبیحہ زاہد ہیں

دسواں مس پاکستان ورلڈ مقابلہٴ حسن 24اگست 2012ء کو کینیڈا کے شہر ٹورینٹو میں منعقد ہوا، جہاں سابق پاکستانی نژاد برطانوی حسینہ مس صنوبر حسین نے اپنا تاج مس پاکستان ورلڈ 2012ء کے سر پر سجایا۔

مس پاکستان ورلڈ مقابلہ حسن کی پہلی حسینہ پاکستانی نژاد زینب نوید کا تعلق امریکہ،دوسرے ٹائٹل کی حقدار پاکستانی نژادمس پرمل نصیرکینیڈا سے، جبکہ تیسرا تاج پہننے والی پاکستانی نژاد برطانوی حسینہ مس صبیحہ زاہدہیں۔

'حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں'۔۔ شاعر کے اِس مصرعے کی تشریح پر پوری اترنے والی 20 سالہ مس صبیحہ زاہد لندن میں رہتی ہیں، جبکہ اُن کا تعلق پاکستان کے شہر فیصل آباد سے ہے۔ وہ کمپیوٹر سائنس کی طالبہ ہیں اور پارٹ ٹائم لیرننگ سینٹر میں پڑھاتی ہیں اورتعلیم کی اہمیت پر بہت زور دیتی ہیں۔

مس پاکستان ورلڈ مقابلہٴ حسن کی ابتدا سونیا احمد نے سنہ2003 میں کی۔ اُس وقت اس مقابلے کو کافی تنقید کا سامنا تھا۔




اس وجہ سے، اسے شروع میں مس کینیڈا پاکستان کا نام دیا گیا۔ بعد میں پوری دنیا سے اس مقابلے میں شرکت کی خواہشمند خواتین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے پیشِ نظر اس مقابلہ ٴ حسن کو مس پاکستان ورلڈ کا نام دیا گیا۔

شرکت کی خواہشمند خواتین کے لیے ضروری ہے کہ ان کے والدین میں سے کوئی ایک پاکستان کا شہری ہو-

مس پاکستان ورلڈ کی روح رواں سونیا احمد نے' وی او اے 'کو بتایا کہ کچھ لوگوں کو اس مقابلے کے بارے میں غلط فہمی ہے کہ اس میں حصہ لینے کے لیے ڈاکٹر ،انجنیئر اور اعلی تعلیم یافتہ ہونا ہی کافی ہے۔

تاہم، اُنھوں نے کہا کہ مقابلہٴ حسن اصل میں صرف خوبصورتی اور ذہانت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

مزید برآں، وہ اس مقابلے کو برطانیہ میں اگلے سال منعقد کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

ادھر، مس پاکستان ورلڈ، زینب نوید نے پاکستان میں بڑھتی ہوئی طلاقوں سے متعلق ایک سوال پر کہا کہ پاکستان کی عورت تعلیم یافتہ اور با شعورہے، اور وہ ظلم نہ سہنے اور اپنے حق میں آواز بلند کرنے میں یقین رکھتی ہے، اور اس کا الزام مغرب پر نہیں دے سکتے۔
سابقہ مس پاکستان ورلڈ صنوبر حسین نے کہا کہ پاکستانی نژاد برطانوی خواتین ذہین، خوبصورت، تعلیم یافتہ اور بااعتماد ہوتی ہیں جو کسی بھی پلیٹ فارم پر کھڑی ہو سکتی ہیں۔

شیفیلڈ برطانیہ میں پیدا ہونے والی صنوبر حسین جو سائیکالوجی میں ماسٹر کرنے کے بعد مانچسٹر کے اسپتال میں کام کرتی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ گھر والے روایتی ہونے کے ساتھ ساتھ لبرل بھی ہیں، اس لیے اُنھیں اس مقابلہ خواتین سے منسلک کسی کام میں کسی مخالفت کا سامنا نہیں رہا۔
XS
SM
MD
LG