رسائی کے لنکس

رمشا مسیح کے عدالتی ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

عیسائی لڑکی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر انتہائی سخت حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے اور رمشا کو سفید چادر سے ڈھانپ کر لایا گیا۔

پاکستان میں توہینِ اسلام کے الزام میں زیرِ حراست نو عمر عیسائی لڑکی رمشا مسیح کے عدالتی ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کے بعد اسے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

رمشا کے وکیل طاہر نوید چودھری کا کہنا ہے کہ جمعہ کو ریمانڈر میں دو ہفتوں کی توسیع معمول کی کارروائی ہے کیوں کہ ان کی موکلہ کی حراست سے متعلق احکام کی مدت ختم ہو گئی تھی۔

عیسائی لڑکی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر انتہائی سخت اقدامات کیے گئے تھے اور رمشا کو سفید چادر سے ڈھانپ کر لایا گیا۔

پولیس عہدے داروں کا کہنا ہے کہ رمشا سے تفتیش کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا، اور اس کے لیے مزید مہلت درکار تھی۔

رمشا کی عمر اور ذہنی صحت سے متعلق طبی رپورٹ پر جمعرات کو وکیل استغاثہ کے اعتراضات کے بعد اس کی ضمانت کی درخواست پر عدالتی کارروائی یکم ستمبر تک ملتوی کر دی گئی تھی۔

طبی رپورٹ میں عیسائی لڑکی کی عمر 14 سال بتائی گئی تھی جب کہ یہ بھی کہا گیا کہ رمشا ’ڈاؤن سنڈروم‘ نامی بیماری کا شکار ہے جس کی وجہ سے اُس کی ذہنی صحت جسمانی نشونما سے مطابقت نہیں رکھتی۔

عیسائی لڑکی کو اسلام آباد کی ایک نواحی علاقے ’مہرآباد‘ سے رواں ماہ پولیس نے اُس وقت اپنی حفاظتی تحویل لے لیا تھا جب قرآنی آیات والے مقدس اوراق کی بے حرمتی کے الزام پر مقامی آبادی نے رمشا کے گھر کا گھیراؤ کر لیا تھا۔

اُدھر پاکستان علما کونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ مذہبی رہنماؤں کی کوششوں کی بدولت ماضی کے برعکس اس حساس معاملے پر اس مرتبہ غیر ضروری اشتعال اور احتجاجی مظاہروں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔

’’پورے پاکستان میں کہیں کوئی مظاہرہ آپ کو نظر نہیں آیا بلکہ اب تو تمام قوتیں یہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ اگر رمشا واقعی ذہنی طور پر معذور ہے اور عدالت اُس کو بری کرتی ہے تو کسی کو اعتراض نہیں ہوگا۔‘‘

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ طبی معائینے میں یہ ثابت ہونے کے بعد کہ رمشا کی عمر 14 برس ہے اس کو اڈیالہ جیل کے بجائے بچوں کے لیے قائم خصوصی حراستی مرکز میں رکھا جانا چاہیئے تھا۔

’’اس کو بڑوں کے ساتھ نہیں رکھا جانا چاہیئے ... یہ قوم یا مذہبی قوتوں کی نہیں بلکہ حکومت کی نا اہلی ہے۔‘‘
XS
SM
MD
LG