رسائی کے لنکس

عراق جنگ: بش اور بلیئر کے خلاف مقدمہ چلنا چاہیئے

  • واشنگٹن

فائل

فائل

’اچھے لیڈر وہ ہواکرتےہیں جو اخلاقیات کو سربلند رکھیں۔ مسٹر بلیئر اور مسٹر بش کو چاہیئے تھا کہ وہ اپنے آپ کو صدام حسین کی سطح تک نہ گراتے‘: آرک بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو

آرک بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو نے کہا ہے کہ سابق صدرجارج ڈبلیو بش اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے ’میدان میں کھیل کود کرنے والے بچوں کا سا انداز‘ اپناتے ہوئے 2003ء میں عراق کو فتح کرنے کا فیصلہ صادر کیا، اور اس اقدام کی پاداش میں اُنھیں مقدمے کا سامنا کرنا چاہیئے۔

برطانوی اخبار ’آبزرور‘ میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں ٹوٹو نے دونوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے ہمیں ایک خطرناک صورتِ حال سے دوچار کردیا ہے، جس میں اب شام اور ایران کےآسیب سے واسطہ ہے۔

ٹوٹو نے کہا کہ عراق کو فتح کرنےکے فیصلے کی بنیاد ’اُس جھوٹ پر مبنی تھی کہ عراق کےپاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں‘۔

اُنھوں نے کہا کہ لڑائی کےفیصلے کےباعث استحکام کو خطرہ لاحق ہوا اوردنیا ایک دوسرے کی دشمن بن گئی، اور ایسی صورتِ حال تاریخ کے کسی اور تنازع کے دوران دیکھنے میں نہیں آئی۔

جنوبی افریقہ کے امن کے داعی اور ریٹائرڈ ایجلیکن بشپ نے دعویٰ کیا کہ افریقی ہم منصبوں کے برعکس مغربی لیڈران مختلف معیار رکھتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ تنازع عراق کے دوران اور بعد میں ہونے والی ہلاکتیں مسٹر بلیئر اور مسٹر بش کو بین الاقوامی عدالت کا سامنا کرنے کے لیے کافی ہیں۔

آرک بشپ ٹوٹو نے کہا کہ دنیا میں مشکلات کا موجب اور انسانی جانوں کےنقصان کا سبب بننے والے حضرات اُسی راہ پر گامزن ہیں جس پر اُن کے افریقی اور ایشیائی پیش رو رہ چکے ہیں، جنھیں آج ھیگ میں اُن کےکرتوتوں کا سامنا ہے۔

امن کے نابیل انعام یافتہ شخصیت نے سوال کیا کہ ہم اپنے بچوں کو کیا سکھا رہے ہیں، کہ لیڈروں کے لیے یہ قابل قبول ہے کہ وہ جھوٹ کی بنیاد پر سخت ترین اقدام کریں اور جب اُن کا دعویٰ غلط ثابت ہو تو وہ معذرت بھی نہ کریں۔

اپنے مضمون میں ٹوٹو نے کہا کہ اچھے لیڈر وہ ہوا کرتےہیں جو اخلاقیات کو سربلند رکھیں۔

اُنھوں نے کہا کہ مسٹر بلیئر اور مسٹر بش کو چاہیئے تھا کہ وہ اپنے آپ کو صدام حسین کی سطح تک نہ گرائیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG