رسائی کے لنکس

سندھ میں نیا بلدیاتی نظام پیپلز پارٹی کیلئے کڑا امتحان


بلدیاتی نظام

بلدیاتی نظام

دونوں جماعتوں کےگورنر و وزیراعلیٰ ہاؤس میں درجنوں اجلاس ہوئے، تاہم، آخرتک یہی کہا جاتا رہا کہ مسودے پر اتفاق ہو گیا ، چند نکات پر مشاورت ہو رہی ہے

سندھ میں نئے بلدیاتی نظام کا نفاذ پیپلزپارٹی کیلئے ایک کڑا امتحان بن گیاہے ۔ ایک جانب تو اسےاتحادیوں کے شدید تحفظات کا سامنا ہے تو دوسری جانب قوم پرست رہنماوٴں نے ٹرین مارچ کا آغاز کر دیا ہے ۔

چار روز پہلے ملک میں اس خبر نے ہلچل مچا دی تھی کہ سندھ میں حکمراں جماعت پیپلزپارٹی اور اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے درمیان نئے بلدیاتی نظام سے متعلق امور طے پا گئے ہیں اور کسی بھی وقت آرڈیننس جاری ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد سے یہ معاملہ ملکی میڈیا کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ۔دونوں جماعتوں کےگورنر و وزیراعلیٰ ہاؤس میں درجنوں اجلاس ہوئے، تاہم، آخرتک یہی کہا جاتا رہا کہ مسودے پر اتفاق ہو گیا ، چند نکات پر مشاورت ہو رہی ہے ۔

تجزیہ کار آرڈینس کے اجرا میں وفاق اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی اتحادی جماعتوں کےتحفظات کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے رہے ہیں ۔اے این پی، مسلم لیگ فنکشنل اور مسلم لیگ ق کی صوبائی قیادت کے تحفظات دور کرنے کیلئے پیپلزپارٹی کےسندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر پیر مظہر الحق کو ہدف دیا گیا تھا۔ انہوں نے تینوں جماعتوں کی قیادت سے مذاکرات کیے لیکن دوسری جانب سے دیے جانے والے بیانات سے محسوس ہوتا ہے کہ مظہر الحق پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکے۔

جمعرات کو مسلم لیگ فنکشنل کے پارلیمانی رہنما جام مدد علی اور مسلم لیگ ق کے صوبائی وزیر شہر یار مہر نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012ء کو سندھ اسمبلی میں بل کی صورت میں پیش کیا جائے اور وہاں سے منظور کرایا جائے ۔ فنکشنل لیگ نے اپنی تجاویز حکومت کو پیش کردی ہیں جس میں واضح کیا ہے کہ کراچی کے پانچ اضلاع ہونے چاہئیں۔دوسری جانب اے این پی کی صوبائی قیادت 2001ء کے بلدیاتی نظام کو کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں ۔

سندھ محبت ٹرین مارچ

ادھر نئے بلدیاتی نظام کے خلاف قوم پرست جماعت عوامی تحریک نے سندھ محبت ٹرین مارچ کا کراچی سے آغاز کر دیا ہے۔ کینٹ اسٹیشن کراچی سے شرکا نے روانگی کے موقع پر ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔

حیدرآباد پہنچنے پر عوامی تحریک سمیت دیگر قوم پرست جماعتوں کے کارکنوں نے شرکا کا استقبال کیا جبکہ عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجوبھی حیدرآباد سے سندھ محبت ٹرین میں سوار ہوئے۔ٹرین مارچ کے شرکا آٹھ اور دس ستمبر کواسلام آباد میں ایوان صدر کے سامنے دھرنے کی صورت جمع ہوں گے اور دھرنا دیں گے ۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال اگست میں جب قوم پرستوں نے صوبے میں کمشنری نظام کی منسوخی اور بلدیاتی نظام کی بحالی کے خلاف شدید احتجاج کیا تھا تو صوبے بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے ، جلاؤ گھیراؤ اور ہڑتالیں بھی کی گئی تھیں۔

اس کے علاوہ آج جن اتحادی جماعتوں کو تحفظات ہیں اس وقت بھی ان کا رد عمل مختلف نہ تھا ۔یہی وجہ تھی کہ گورنر سندھ کی جانب سے جاری بلدیاتی نظام کے آرڈیننس کی سندھ اسمبلی سےتوثیق نہیں کرائی جا سکی اور نومبر 2011ء کے اوائل میں خود بخود کمشنری نظام بحال ہو گیا تھا۔
XS
SM
MD
LG