رسائی کے لنکس

ٹائیگر دھن کا پکا ہوتا ہے اور اُس میں برداشت کی کمی نہیں؟

  • واشنگٹن

دس سالوں میں ایک ہزار شیر ہلاک، رپورٹ

دس سالوں میں ایک ہزار شیر ہلاک، رپورٹ

بیسویں صدی کے آغاز سے لے کر اب تک ٹائیگر کی نسل میں 97فی صد کی کمی واقع ہوئی ہے جس کی اب دنیا بھر میں تعداد تقریباً 3000کے قریب باقی رہ گئی ہے

مشہور ہے کہ شیر میں برداشت کم ہوتی ہے۔ لیکن، ایک تازہ مطالعے سے جانوروں کی پرکھ رکھنے والوں کی اِس رائے کو چیلنج کیا گیا ہے کہ ان چیر پھاڑ کرنے والے خونخوار جانوروں کو زیادہ خوراک اور کھلے میدان کی ضرورت پڑتی ہے۔

یہ نئی معلومات بہت اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ بیسویں صدی کے آغاز سے لے کر اب تک ٹائیگر کی نسل میں 97فی صد کی کمی واقع ہوئی ہے جو کہ اب دنیا بھر میں تقریباً 3000کے قریب باقی رہ گئی ہے، جس کا زیادہ تر سبب پھیلتے ہوئے شہر اور زراعت کی ضروریات ہیں، جِن کے باعث، ٹائیگر کے پنپنے کے لیےدرکارقدرتی ماحول ختم ہوتا جارہا ہے۔

مشی گن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والےگریجوئیشن کےایک طالب علم ، نیل کارٹر نے انسان اور شیر کے باہمی تعامل کا مطالعہ کرنے کی غرض سے نیپال کے ’چتون نیشنل پارک ‘میں قدرتی ماحول کی عکس بندی کے لیےجگہ جگہ کیمرے نصب کیے۔

A tiger’s eyes glow during the night on the same foot paths and roads humans use during the day to collect wood and grasses.

A tiger’s eyes glow during the night on the same foot paths and roads humans use during the day to collect wood and grasses.


یہ پارک کوہ ہمالیہ کی وادی میں قائم ہےجس کی دیکھ بھال فوج کرتی ہے، اور جہاں پر اندازاً 120ٹائیگر رہتے ہیں۔

لیکن، اس علاقے میں لوگ بھی آباد ہیں۔

سیاح اِس پارک کو دیکھنے جاتے ہیں اور مقامی دیہات کے لوگ اس پاک کی حدود میں رہتے ہیں، جہاں ٹائیگر بھی آزادی سے پھرتے رہتے ہیں۔

کارٹر نے کہا کہ یہ کیمرے80مختلف مقامات پر لگائے گئے، جِن کی مدد سے پارک کے اندر اور باہر کی حرکات و سکنات کی عکس بندی کی گئی۔

اُن کے بقول، ہم نے جو بات دیکھی وہ یہ کہ ہر جگہ ٹائیگر موجود تھے اور اسی طرح انسان بھی ہر جگہ موجود تھے۔ لیکن ظاہر ہے وہ بالکل ایک ہی وقت میں ایک ہی جگہ پر موجود نہیں تھے، ورنہ ظاہر ہے، اِدھر سے اور اُدھر سے ہر طرح کی مار دھاڑ کی خبریں موصول ہوتیں۔

’تو جو بات ہمیں پتا چلی وہ یہ کہ شیر جانتا ہے کہ کس وقت باہر جانا ہے، اس لیے وہ دِن کی بجائے رات کو زیادہ متحرک ہوتے ہیں‘۔



حالانکہ، دن ہو یا رات، ٹائیگر ہر وقت پھرتے ضرور رہتے ہیں۔

کیمرا کی تصاویر سے پتا چلتا ہے کہ یہ ’بلی کی خالہ‘ رات میں زیادہ متحرک ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ پارک سے باہر چلی جاتی ہے۔

شیر اُن دھول اڑاتی سڑکوں اور تنگ پکڈنڈیوں سے بھی نہیں گھبراتا جنھیں انسان استعمال کرتے ہیں۔

کارٹر کو حیرت ہوئی جب اُنھیں اس بات کا پتا چلا کہ شیر نے اپنی حرکات وقت کے مطابق ڈھال لی ہیں، لیکن جگہ تبدیل نہیں کی، وہاں پر بھی جہاں بہت سے انسان موجود تھے۔

اس بات سے قطع تعلق کہ کتنی گاڑیاں آجا رہی ہیں یا کتنے لوگ وہاں ہیں ، وہ ہر جگہ موجود تھے۔ وہ بکھرے ہوئے ایک دوسرے سے دور تھے اور مرضی سے شکار کی تلاش میں تھے۔

معلوم ہوا کہ جہاں پر اُسے شکار میسر ہو شیر وہ مقام چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گا، چاہے کچھ بھی ہو ۔
XS
SM
MD
LG