رسائی کے لنکس

محکمہ موسمیات نے صوبے بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ اس ہفتے سندھ میں تیز بارشوں کا مزید امکان ہے۔

ملک کے باقی حصوں کی طرح صوبہ سندھ خاص کر سندھ کے میدانی و ساحلی علاقوں میں موسلادھار بارشیں جاری ہیں جس سے متعدد علاقے زیر آب آگئے ہیں اور نظام زندگی درہم برہم ہوگیا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق صورتحال سے نمٹنے کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے پیر کے روز صوبے بھر میں رین ایمرجنسی نافذ کردی۔

ایمرجنسی کے تحت وزیر اعلیٰ سندھ نے تمام صوبائی کمشنرز اور ریونیو افسران کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں جبکہ انہیں فوری طور پر بارش سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کام کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں ۔

محکمہ موسمیات نے صوبے بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔محکمے کے مطابق سندھ میں عمومی طور پر جولائی سے ستمبر تین ماہ میں مون سون بارشیں ہوتی ہیں لیکن اس بار سندھ میں مون سون دیر سے داخل ہوا ہے ۔ اب امکان یہی ہے کہ بارشیں معمول سے ذرا ہٹ کر دیر تک چلیں ۔ اس حوالے سے رواں ہفتہ بہت اہم ہے۔ اس ہفتے سندھ میں تیز بارشوں کا مزید امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اب تک سب سے زیادہ بارش جیکب آباد میں ریکارڈ کی گئی ہے جہاں پیر تک440 ملی میٹر ہوچکی ہے۔محکمے کے مطابق کشمور، شکارپور، گھوٹکی اور جیکب آباد سمیت دیگر علاقوں میں بھی بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا دی ہے۔ان علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے۔

ادھر وزیراعلیٰ کی ہدایات پر صوبائی وزیر مکیش چاولہ نے فوری طور پر ضلع کشمور کا دورہ شروع کردیا ہے۔ مکیش چاولہ کے مطابق کشمور میں بھی موسلادھار بارشیں ہورہی ہیں ۔ ان بارشوں سے اب تک7 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

مکیش چاوٴلہ کے مطابق ضلع میں امدادی کاموں کا آغاز کردیا گیا ہے اور بارش میں پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہاہے۔
XS
SM
MD
LG