رسائی کے لنکس

کہ پنجابی فلم انڈسٹری کی لیے نصیبو لال کو، نورجہاں کی آواز کا ایک متبادل سمجھا جاتا ہے۔

برطانیہ شیفیلڈ سٹی کے منٹگمری ہال میں ' نصیبو لال کنسرٹ' ایس کے کمپنی کی جانب سے منعقد کیا گیا ۔ مخصوص لب و لہجے اور خوبصورت آواز رکھنے والی گلوکارہ نصیبو لال، اپنی گائیکی کی وجہ سے خاصی شہرت رکھتی ہیں۔ ان کی آواز میں ریشماں اورنورجہاں کے سوز اور مٹھاس کی جھلک ملتی ہے۔ پنجابی گیتوں کی گائیکی نے انھیں بڑی شہرت ملی ۔

اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ پنجابی فلم انڈسٹری کی لیے نصیبو لال کو، نورجہاں کی آواز کا ایک متبادل سمجھا جاتا ہے۔ البتہ ان کے کچھ پنجابی فلمی گانے متنازع بھی رہے ۔

دس ستمبر کی رات ہونے والے اس کنسرٹ کی ابتدا میں انھوں نے اپنے کچھ پنجابی فلمی گانے سنائے ،جس کے بعد ہال میں موجود لوگوں کی فرمائش پر انھوں نے میڈم نورجہاں کے کئی پنجابی گانے گائے

کنسرٹ کے شرکا کا جوش و خروش

کنسرٹ کے شرکا کا جوش و خروش

' مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ' فیض احمد فیض کا یہ کلام جسے نورجہاں نے گایا تھا، کی فرمائش پر نصیبو لال کا کہنا تھا کہ میڈم نورجہاں کی غزلیں گانا آسان بات نہیں۔ میں کوشش کروں گی کہ انصاف کر سکوں۔تاہم اس غزل کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ گانا میری زندگی ہے ،گانے کے بغیر میں زندہ نہیں رہ سکتی،اگر گاؤں کی نہیں تو مرہی جاؤں گی۔'

سامعین میں سے کسی نے ' او آجا دل جانیا کر مہربانیاں ' گانے کی فرمائش کی تو نصیبو لال نے وضاحت کی کہ یہ گانا پاکستانی گلوکار شوکت علی خان کا ہے ،لیکن میرے گانے کے بعد یہ گانا زیادہ مقبول ہوا۔

اس کنسرٹ کے ایک اور گلوکار راحت نے ریشماں کے مشہور گانے بڑی لمبی جدائی گا کر داد وصول کی ،جبکہ نصیبو نے شو کا اختتام اس گانے سے کیا ' دما دم مست قلندر' جس پر سارا ہال جھوم اٹھا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG