رسائی کے لنکس

کراچی آتشزدگی: سی سی کیمروں کی فوٹیج مل گئی ہے، مشیروزیراعلی سندھ


مستعفی ہونے والے وزیر صنعت و تجارت روف صدیقی اور زبیرموتی والا کی وائس آف امریکہ سے گفتگو

وزیراعلی سندھ کے مشیر اور کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق صدر زبیرموتی والا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں دعوی کیا ہے کہ کراچی میں آتشزدگی کا شکار ہونے والی فیکٹری سے کلوز سرکٹ کیمروں کی فوٹیج حاصل ہو گئی ہے اور جلد حقائق سامنے آ جائیں گے۔

کراچی میں ایک گارمنٹس فیکٹری میں آتشزدگی کے نتیجے میں تین سو کے لگ بھگ افراد کی ہلاکت کے بعد ایک طرف تو مختلف سطحوں پر تحقیقات ہو رہی ہیں تو دوسری طرف ملک بھر کے ذرائع ابلاغ میں انتظامیہ پر تنقید کی جا رہی ہے اور سندھ کے وزیرصنعت و تجارت روف صدیقی نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

زبیرموتی والا نے کہا کہ حکومت اس سانحے کے بعد شہر میں موجود تمام فیکٹریوں اور انڈسٹری کے لیے بین الاقوامی معیار کے حفاظتی انتظامات کی موجودگی کو یقینی بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں میں ایسی خبروں پر تبصرہ نہیں کروں گا کہ آیا اس واقعے میں بھتہ خوری کا عنصر بھی کارفرما ہو سکتا ہے یا نہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی کی فوٹیج کو ڈی کوڈ کر لیا گیا ہے اور اس سے حقائق جلد سامنے آ جائیں گے۔

مزید تفصیلات آڈیو رپورٹ میں۔

اس سے قبل مستعفی ہونے والے وزیر صنعت و تجارت روف صدیقی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سانحے پر بہت دکھی ہیں اوروزارت کا قلمدان ہونے کے باوجود بے بس تماشائی بنے نہیں بیٹھ سکتے تھے۔

’’ میری وزارت سانحے کی زمے دار نہیں اور نہ ہی میں قصوروار ہوں مگر استعفی اس لیے دیا کہ تحقیقات سرد خانے کا شکارنہ ہوں اور میں ایک وزیرہوتے ہوئے بھی محض تنقید کرنے کے بجائے متاثرہ خاندانوں کو معاوضے دلا سکوں۔ اورمقامی میڈیا بھی مطالبہ کر رہا تھا کہ مہذب معاشروں کی طرح کوئی تو یہاں بھی مستعفی ہوتا‘‘

ان کا کہنا تھا کہ سانحے کے بعد محض تماشائی کی حیثیت سے لوگوں کو مرتے دیکھنا بہت اذیت ناک تھا اور اگر میں کسی متعلقہ وزیر پر تنقید کروں تو لوگ اس کو سیاست سمجھیں گے اس لیے بہتر سمجھا کہ استعفی دوں اور متاثرہ خاندوں کی مدد کے لیے کھل کر کردار ادا کر سکوں۔

تجزیہ کار فاروق عادل نے کہا کہ روف صدیقی کا استعفی اس لحاظ سے قابل تعریف ہے کہ کسی نے تو اپنی ذمے داری لی اس طرح انہوں نے ایک اچھی روایت قائم کی ہے مگر ان کے بقول صدیقی صاحب اور ان کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کو اتحادی حکومت کوساتھ لے کر اس معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کرنی چاہیے۔ فاروق عادل نے ان خدشات کا بھی اظہار کیا کہ اتنا بڑا سانحہ بھی ’’داخل دفتر‘‘ ہو جائے گا اور کبھی ذمے داروں کا تعین ہو سکے گا اور نہ کسی کو سزا ملے گی۔
XS
SM
MD
LG