رسائی کے لنکس

لبنان کو امن و مذہبی آزادی کا گہوارہ بننا چاہیئے: بینی ڈکٹ

  • واشنگٹن

پوپ کا کہنا ہےکہ لبنان میں صدیوں سےعیسائیوں اورمسلمانوں کےمقدس مقامات مشترک ہیں اور اُن کے اہلِ خانہ اکثرو بیشتر دونوں مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں

پوپ بینی ڈکٹ نے لبنان پر زور دیا ہے کہ اُسے انتشار کا شکار مشر ق وسطیٰ میں امن اور مذہبی آزادی کا ایک ماڈل بن کر اُبھرنا چاہیئے۔

رومن کیتھولک چرچ کےلیڈر نےہفتے کے روز بیروت کے صدارتی محل میں لبنانی عہدے داروں اور مذہبی راہنماؤں کے ساتھ ملاقات کی، جہاں پر اُن کا استقبال خیرمقدمی نعرے لگاتے ہوئےاجتماعات نے کیا۔

پوپ نے کہا کہ لبنان میں صدیوں سے عیسائیوں اورمسلمانوں کےمقدس مقامات مشترک ہیں اور اُن کے اہلِ خانہ اکثرو بیشتر دونوں مذاہب سےتعلق رکھتے ہیں۔

ہفتے کی رات گئےاپنے ایک خطاب میں پوپ نے شام میں رہنے والوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

پوپ کے بقول، میں شام والوں کے لیے بھی دعا گو ہوں، جو آپ میں سےہی ہیں۔

’میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں آپ کے حوصلےکی داد دیتا ہوں۔ اپنے وطن میں اپنے خاندانوں اور احباب کو بتایئے کہ میں آپ کو نہیں بھولا۔ اپنے گِرد لوگوں سے کہیئے کہ پوپ کو آپ کی مصیبتوں اور دکھ پر بہت رنج ہے۔ میں اپنی دعاؤں اور عام زندگی میں شام کو نہیں بھولتا۔ میں مشرق وسطیٰ کے لوگوں کی تکالیف کو نہیں بھولتا۔ یہ وقت ہے جب مسلمان اور عیسائیوں کو مل کر تشدد اور جنگ کا خاتمہ کرنا چاہیئے‘۔

جمعے کے روز لبنان میں آمد پر پوپ نے کہا کہ وہ اِس خطے میں ’امن کے زائر‘ کے طور پر پہنچے ہیں۔ وہ یہ دورہ خطے میں مسلمانوں کی طرف سے خونریز احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں کر رہے ہیں، جس کا باعث امریکہ میں بننے والی ایک نجی فلم ہے، جِس میں اسلام کے پیغمبر، محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) کا تمسخر اڑانے کی گستاخی کی گئی ہے۔

پوپ بینی ڈکٹ نے کہا کہ خطے میں پُرتشدد ہنگاموں کےنتیجے میں سلامتی کو لاحق خدشات کے پیش ِنظر اُنھیں کسی بھی لمحے لبنان کا اپنا دورہ منسوخ کرنےکا خیال نہیں آیا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG