رسائی کے لنکس

برما میں جہاں فوج کی حکمرانی تھی، آنگ سان سوچی نےجمہوریت لانے کی کوشش کی جس کی پاداش میں اُنھیں 20برس تک کسی نہ کسی صورت میں نظربند رکھا گیا

آنگ سان سوچی برما میں جمہوریت کےفروغ لیے اورعورتوں اور نوجوان لڑکیوں کے لیے طاقت کی ایک علامت ہیں، خاص طور سے اُن خواتین کے لیے جو سیاسی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔

برما میں جہاں فوج کی حکمرانی تھی، آنگ سان سوچی نےجمہوریت لانے کی کوشش کی جس کی پاداش میں اُنھیں 20برس تک کسی نہ کسی صورت میں نظربند رکھا گیا۔
اپریل 2012ء میں اُنھوں نے پارلیمنٹ کے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا جس میں اُنھیں اور اُن کے ہم وطن امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی۔

وہ ملک میں آزادی کے ہیرو جنرل آنگ سان کی صاحبزادی ہیں۔ اُن کے والد کو جولائی 1947ء میں ملک کے آزاد ہونے سے صرف چھ ماہ قبل قتل کردیا گیا تھا، جس وقت سوچی کی عمر صرف دو برس تھی۔

اُن کی نیشنل لیگ فور ڈیموکریسی کی زبردست فتح کے ایک سال بعد اُنھیں نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ پیس کمیٹی کے چیرمین نے اُنھیں ’بے بس لوگوں کی طاقت کی اعلیٰ ترین مثال‘ قرار دیا۔

اِسی سال، اُنھوں نے باضابطہ طور پرامن کا نوبیل انعام حاصل کیا۔ اس موقعے پر اپنے خطاب میں، سوچی نے کہا کہ اُن کا ملک ابھی تک حقیقی جمہوری معاشروں کے درجے تک نہیں پہنچا۔ تاہم، اُنھوں نے اِس یقین کا اظہار کیا کہ عالمی برادری کی مددسے ’ہم جلد ہی وہاں تک پہنچ جائیں گے‘۔

بیس جولائی 2012ء کو اُنھیں برطانیہ کی ممتاز یونیورسٹی آکسفورڈ نے اعلیٰ اعزازی ڈگری سے نوازا۔

چھیا سٹھ سالہ سوچی دنیا بھر میں جبرو استبداد کے خلاف پُر امن مزاحمت کی ایک علامت بن گئی ہیں۔

تفصیل سننے کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجیئے:

XS
SM
MD
LG