رسائی کے لنکس

زومبی ایک ایسی لاش ہے ، جسے وچ کرافٹ یا جادو ٹونے کے اثر سے زندہ کیا گیا ہو ۔پاکستان کے پس منظر میں دیکھیں ، تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے زومبی اپنا سر ہتھیلی پر لئے ،بنا سوچے سمجھے ،کسی عامل کے معمول کی طرح ،کسی بھرے بازار میں جاکر پھٹ جانے والی زندہ لاش ہے، جس کا دماغ کسی اور کے قبضے میں ہے ۔

انگریزی زبان میں ،MOB کی اصطلاح کسی ایسے گروہ کے لئے استعمال کی جاتی ہے ، جس کا مقصد تجربے، لذت یا لوٹ مار کے مقصد سے کیا جانے والاکوئی اندھا دھند اقدام ہو۔
واشنگٹن میں بیٹھے وہ صحافی ، جو اپنے آپ کو خوش قسمتی یا بد قسمتی سے اب بھی پاکستانی سمجھتے ہیں، ملک خدادادکی سر زمین پر بگولوں کی طرح چلتی اشتعال کی آندھیاں دیکھنے کے عادی ہیں ۔ وہ کچھ کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ، راج کرے گی خلق خدا، اور، انصاف کا سورج نکلے گا،ایسے اعلی اور پرمغز نعروں کی پشت پر کون، کس کے ہاتھوں میں کھیلتا اور جیتتا چلا آیا ہے۔

یہ صحافی جو خوش قسمتی یا بد قسمتی سے امریکہ کے اس شہر کی فضا میں آنے والی گرم اور سرد ہوا ؤں کے رخ بھی پہچانتے ہیں ، جہاں پاکستان کی گلیوں، بازاروں اور چوراہوں میں مقبول نظریات کے مطابق ، ملک خدا داد کے خلاف ہر ممکنہ مذموم سازش تیار کی اور کھیلی جاتی ہے۔جو خبر نام کی چڑیا کو دن میں کئی مرتبہ اپنے ملک کے آسمان پر پھڑپھڑاتے، اڑتے ،پرواز کرتے اور دنیا کے خبرنامے کا رخ متعین کرتے دیکھتے ہیں۔ جواپنے ملک میں طلوع ہونے والی حسین صبحوں اور خوشگوار شاموں میں چلنے والی پر تشدداورپر اسرار ہواؤں کا رخ پہچاننے کی کوشش کرتےاکثر ہارجاتے ہیں ۔ جو ہر گھڑی اپنے نیوز روم کے بے زبان ٹی وی سیٹس پر جلتی گاڑیوں ، آتش فشانی فیکٹریوں ، خون آلود سڑکوں اور پھٹنے والے خود کش بمباروں کے سر جمع کرتی پولیس اور انتطامیہ کو صورتحال سے نمٹنے کے ‘فول پروف’ انتظامات کے دعوے کرتے دیکھتے ہیں اور اپنے لوگوں کی تکلیف پر اپنےغیر ملکی ساتھیوں کو کڑھتے، جلتے، اور افسوس کا اظہار کرتے پا کر خود کو اکثرایک عجیب مقام پر محسوس کرتے ہیں۔

وہ انہیں کیسے سمجھائیں کہ آج عالمی وپاکستانی میڈیا اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر تمام دن پاکستان سے آنے والی تصویریں ،افرتفری ، بےچینی، لوٹ مار ، اپنے ہی بھائیوں کے خون میں رنگی، پتھراؤ کا شکار سڑکوں کی جو کہانی سنا رہی ہیں، اپنے ہی بینکوں ، سینما گھروں اورریستورانوں کو آگ لگانے جیسے اقدامات کی جوعقلی توجیح پیش کر رہی ہیں ،وہ سب کچھ ہو سکتی ہے، اہل وطن کے عشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اظہار نہیں ہو سکتی۔

کچھ روز پہلے واشنگٹن میں پاکستان کے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چئیرمین جاوید لغاری نے کہا تھا کہ پاکستان آئندہ چند برسوں تک آبادی میں تیزی سے ہوتے اضافے ، معیشت اور تعلیم پر توجہ نہ دینے کے باعث دنیاکی سب سے بڑی نا خواندہ ، ان پڑھ آبادی کا حامل ملک بن سکتا ہے ۔پاکستان جس کی نصف آبادی اٹھارہ سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔اور جس کے روشنیوں کے شہر کو آگ اور دھویں کے سپرد کرتے نوجوانوں کو آج یہ معلوم نہیں تھا کہ توہین آمیز فلم بنانے والوں کا حکومت پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔

http://www.urduvoa.com/content/karachi-21sep2012/1512452.html

تو کیاغیرملکی تھنک ٹینکس میں بیٹھے ماہرین کی یہ بات سچ ہونے والی ہے کہ پاکستان تیزی سےایک بےسمت ہجوم میں تبدیل ہوتاجا رہا ہے؟

ہجوم ، جس کی اپنی کوئی سوچ ، اپنا کوئی ادراک نہیں ہوتا ؟جس کا کام بھگدڑ مچانا اور اپنے جیسےانسانوں کواپنے ہی پاؤں تلے کچل کر آگے بڑھ جانا ہوتا ہے؟

کیا گلیوں میں بے مقصد پھرتے بےروزگار ، شغلی ، نوجوانوں کو کنٹینر الٹنے، آگ لگانے ، اور پتھراؤ کرنے کی بھاری ذمہ داری دےکر دین اسلام اور پیغمبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کولگنے والے تمام داغ دھو دیئےگئے؟

کیا اپنے ملک کا ایسا چہرہ دنیا کو دکھا کر ،ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے پر بیٹھے اہل وطن ، آخر کار دشمن کے دل میں اپنی ہیبت جگانے میں کامیاب ہو ئے؟

کیا توہین آمیزفلم بنانے والوں کے دانت کھٹے کر دیئے گئے؟

کیا ہم زومبی ہیں؟

زومبی کیا ہوتا ہے؟

گوگل کیجیئے ۔۔ایک ایسی لاش ، جسے وچ کرافٹ یا جادو ٹونے کے اثر سے زندہ کیا گیا ہو ۔پاکستان کے پس منظر میں دیکھیں ، تو زومبی کی تعریف یہی ہو سکتی ہے۔ اپنا سر ہتھیلی پر لئے ،بنا سوچے سمجھے ،کسی عامل کے معمول کی طرح ،کسی بھرے بازار میں جاکر پھٹ جانے والا، جس کا دماغ کسی اور کے قبضے میں ہے ۔وہی تو زومبی ہوتا ہے۔

مگر کہیں ایک سستی ، غیر معیاری اور بلا تحقیق بنائی گئی بےہنگم فلم کا مقصد یہی تو نہیں تھا۔

سب کو زومبی بنادینا۔

افسوس پاکستان۔۔آپ نے ان کا مقصد پورا کر دیا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG