رسائی کے لنکس

وہائٹ ہاؤس میں کوئی بھی کیوں نہ ہو، امریکہ اِس وقت جِس راہ پر گامزن ہے اُس کی مدد سے وہ اپنی تیل اور گیس کی ضروریات ملک کے اندر ہی پورا کرنے کے قابل ہو جائے گا: ہیوسٹن

’ہیوسٹن کرانیکل ‘ میں توانائی میں خودکفالت سے متعلق ایک تجزیے سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اگر امریکہ توانائی کے لیے دوسرے ملکوں کا دستِ نگر نہ بھی رہا پھر بھی اُس سے قیمتیں کم ہونے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

اخبار کہتا ہے کہ مِٹ رامنی اور براک اوبامہ دونوں کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکہ کو غیر ملکی تیل پر انحصار سے چھٹکارا دلائیں گے اور یہ کہ وہ شمالی امریکہ کو توانائی میں خودکفیل بنا دیں گے۔

اخبار کہتا ہے کہ وہائٹ ہاؤس میں کوئی بھی کیوں نہ ہو، امریکہ اِس وقت جِس راہ پر گامزن ہے اُس کی مدد سے وہ اپنی تیل اور گیس کی ضروریات ملک کے اندر ہی پورا کرنے کے قابل ہوجائے گا۔

یہ اُس فنیاتی ترقی کی بدولت ممکن ہوگیا ہے جس سے سنگلاخ چٹانوں کے اندر سے تیل کے ذخائر نکالے جاسکیں گے۔

لیکن، ملک کے اندر جو وافر ذخائر موجود ہیں اُن سے توانائی کی قیمتیں کم ہونے کی ضمانت نہیں ملتی اور اگر شمالی امریکہ مکمل طور پر تیل کی درآمد سے آزاد بھی ہو گیا پھر بھی امریکہ عالمی مارکیٹ کے ساتھ بندھا ہوا ہوگا۔

آڈیو رپورٹ سننے کے لیے کلک کیجیئے:



اگلے ماہ، صدر اوبامہ اور اُن کے ڈیموکریٹک حریف مِٹ رامنی کےدرمیان تین صدارتی مباحثے ہونے والے ہیں، جس پر ’لاس انجلیس ٹائمز‘ کے تجزیہ کار ڈاڈ راجرز اور مائیکل نارمن کہتے ہیں کہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ان مباحثوں میں امیدواروں سے جو سوال کیے جاتے ہیں امیدوار بالعموم اُن سے صرف نظر کرتے ہیں اور اِس سے بھی زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ کسی کو یہ محسوس بھی نہیں ہوتا۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سیاسی شخصیات کو سوالوں سے اپنے دامن بچانے میں بڑی مہارت ہوتی ہے۔ اور اُن کی ترجیح یہی ہوتی ہے کہ سیدھا جواب دینے سے گریز کیا جائے۔ اِس کی ایک مثال معروف مدبر ہنری کسنگر کی دی جاتی ہے جو عام طور پر اخبار نویسوں سے پوچھا کرتے تھے کہ میں نے جو جواب دیے ہیں کیا کسی کو اُن پر کوئی سوال کرنا ہے۔

ایک مباحثے کے دوران رامنی سے ماڈریٹر نے کہا کہ اُنھوں نےایک سوال کا جواب نہیں دیا ۔ اِس پر رامنی کا برجستہ جواب تھا کہ دیکھیئے جناب آپ جو سوال کرنا چاہیں وہی کرتے ہیں اور میں بھی وہی جواب دیتا ہوں جو میں دینا چاہوں۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اُن کی تحقیق سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ بہت اغلب یہی ہے کہ سننے والوں کو پتہ ہی نہیں چلتا جب اُن سے مخصوص سوال کیے جاتے ہیں تو وہ اُسی قسم یا اس سے ملتے جلتے سوالوں کا جواب دیتے ہیں جِن کا مدعا حقیقت میں کچھ اور ہوتا ہے۔

چابک دستی کےساتھ اِس قسم کے دیےہوئے جوابوں کی طرف سننے والوں کا دھیان اِس وجہ سے نہیں جاتا کیونکہ اُن کی محدود توجہ اکثر یہ طے کرنے پر مرکوز ہوتی ہے کہ یہ سیاست داں کیسا ہے اور آیا اُس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے؟ اور اس طرف کم دھیان جاتا ہے کہ آیا اُس نے مخصوص سوال کا جواب دیا ہے؟ چناچہ، سیاست دان سننے والوں کی اِس نفسیاتی کمزوری کا فائیدہ اٹھاتے ہوئے چابکدستی کے ساتھ سوال ٹالنے میں کامیاب ہوجاتا ہےاور سننے والے کو پتہ بھی نہیں چلتا، ماسوائے ایسی صورت میں جب سوالوں کو بے حیائی کے ساتھ نہ نظرانداز کردیا گیا ہو۔

دنیا بھر میں پُر تشدد مظاہروں کو ہوا دینے والی اسلام سے متعلق اہانت آمیز فلم میں کام کرنے والی ایک اداکارہ نے کیلی فورنیا کی فیڈرل کورٹ میں ایک نیا مقدمہ درج کرانے کا اعلان کیا ہے۔ رائٹرز خبر رساں ایجنسی کے مطابق، سنڈی لی گارسیا نے ایک سابق مقدمے میں کہا تھا کہ فلم کے پروڈیوسر نے اُسے دھوکے سے جو کردار ادا کرنے میں پھنسایا تھا اُس کی وجہ سے اُس کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

رائٹرز کا کہنا ہے کہ پیغمرِ اسلام کی اہانت سے متعلق اِس فلم کے سلسلے میں یہ پہلا دیوانی مقدمہ ہے۔

اداکارہ کے وکیل نے کہا کہ گوگل اور یوٹیوب کے رہنما اصول منافرت پھیلانے والے مکالمے کی اجازت نہیں دیتے اور یہ فلم کیسے اخلاقی اور قانونی اعتبار سے منافرت پاتے ہیں۔ گوگل نے پہلے وہائیٹ ہاؤس کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا کہ وہ اِس فلم کے کلپ یوٹیوب پر دکھانے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

لیکن، اب اِس کمپنی نے مصر اور لبیا جیسے اسلامی ملکوں میں اُس کے ٹریلر دکھانا بند کردیے ہیں۔ وہائٹ ہاؤس نے گوگل سے کیا تھا کہ وہ اس کا نئے سرے سے جائزہ لے کہ آیا اِس وڈیو سے یوٹیوب چلانے کی شرائط کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

اپنے مقدمے میں گارسیا نے فلم کے پروڈیوسر پر نکولا پر الزام لگایا تھا کہ اس نے اس کو یہ باور کرایا تھا کہ یہ فلم صحرا میں ایک سیدھے سادے معرکے سے متعلق ہے لیکن اس کی وجہ سے 11ستمبر کے بعد سے ساری دنیا ئے اسلام میں امریکہ کے خلاف تشدد کی لہر دوڑ گئی ہے۔
XS
SM
MD
LG