رسائی کے لنکس

الطاف حسین نے صدرآصف زرداری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی سے کہا کہ وہ صدر مملکت کی واضح یقین دہانی کے بعد تین روزہ الٹی میٹم واپس لے لے، جس کے بعد رابطہ کمیٹی نے الٹی میٹم واپس لے لیا

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی اپنی ناراض اتحادی ایم کیو ایم کو منانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔لیکن، دوسری جانب بلدیاتی آرڈیننس پر قوم پرست اور ناراض اتحادی جماعتوں کا سندھ میں احتجاج سڑکوں پر آ گیا ہے۔

ایم کیو ایم کی جانب سے پیپلزپارٹی کواپنے مطالبات کے حق میں دیئے گئے تین روز ہ الٹی میٹم میں ابھی ایک دن باقی تھا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت بدھ کودوبارہ گورنر ہاوٴس پہنچ گئی۔ طویل مشاورت ہوتی رہی لیکن بڑی پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب اسی دوران صدر زرداری نے نیویارک سے لندن میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو فون کیا۔

ایم کیو ایم کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق صدر زرداری نے الطاف حسین کویقین دلایاکہ وہ بہت جلد مداخلت کرکے تمام مسائل افہام وتفہیم سے حل کرائیں گے۔ صدرمملکت نے الطاف حسین کو یقین دلایا کہ کچھ گوناگوں اورہنگامی نوعیت کی مصروفیات کے سبب ایم کیوایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان طے شدہ معاملات پر عملدرآمد نہیں ہوسکا جس کا انہیں افسوس ہے۔

صدرمملکت نے مزید کہاکہ وہ طے شدہ معاملات کے فوری حل کیلئے سندھ حکومت کو ہدایت دے چکے ہیں۔ الطاف حسین نے صدرآصف زرداری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی سے کہا کہ وہ صدرمملکت آصف علی زرداری کی واضح یقین دہانی کے بعد تین روزہ الٹی میٹم واپس لے لے جس کے بعد رابطہ کمیٹی نے الٹی میٹم واپس لے لیا۔

دوسری جانب سندھ میں نئے بلدیاتی آرڈیننس کے خلاف بدھ کو سندھ بچاوٴ کمیٹی کے تحت قوم پر ست جماعتیں صوبے کی سڑکوں پر آ گئیں۔ احتجاج کے دوران حکومت کے ناراض اتحادیوں کے قائدین کے پوسٹرز اور بینرز بھی نمایاں نظر آئے۔ حیدر آباد میں قوم پرست جماعتوں کی جانب سے سپر ہائی وے پر سیاسی اور قوم پرست جماعتوں نے دھرنا دیا۔ اطلاعات کے مطابق، سکھر ، نوابشاہ اور عمر کوٹ میں بھی شدید احتجاج کیا گیا۔ بدین میں طالب علموں نے بلدیاتی آرڈیننس کے خلاف احتجاج کیا۔

ٹنڈومحمدخان، جام شورو،مٹیاری،دادو،کشمور، کندھ کوٹ،جیکب آباد، اوردیگرمقامات سے بھی احتجاجی دھرنے کی خبریں ملی ہیں۔ مظاہرین نے نئے بلدیاتی آرڈیننس کو سندھ کی تقسیم کی سازش قرار دیااور مطالبہ کیا کہ فی الفور آرڈیننس کو واپس لیا جائے۔ قوم پرست رہنماوٴں نے دھمکی دی کہ اگر آرڈیننس واپس نہ لیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیا جائے گا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG