رسائی کے لنکس

بن غازی کے حملے میں شمال افریقی القاعدہ ملوث ہے: ہلری کلنٹن

  • واشنگٹن

’القاعدہ اسلامی مغرب کےعلاقے کو لیبیا جیسے ممالک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہا ہے‘

امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے پہلی بار واضح الفاظ میں کہا ہے کہ لیبیا میں امریکی سفارتی مشن پر حملے میں شمال افریقی القاعدہ ملوث تھی، جس میں ہلاک ہونے والوں میں سفیر کرسٹوفر اسٹیونز سمیت چار امریکی شامل تھے۔

ہلری کلنٹن نے یہ بات شمالی افریقہ کے ساحلی خطے کےعنوان پر ہونے والےاقوام متحدہ کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب میں کہی۔ اُن کا کہنا تھا کہ القاعدہ اسلامی مغرب کےعلاقے کو لیبیا جیسے ممالک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دینے کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ القاعدہ کا علاقائی گروپ دوسرے پُرتشدد انتہا پسندوں کے ساتھ مل کر شمالی افریقہ میں جاری جمہوری پیش رفت میں روڑے اٹکانے کی کوشش کررہا ہے، جیسا کہ ہم نے بن غازی میں ہوتےدیکھا۔

امریکہ کے اعلیٰ سفارت کار نے یہ بھی کہا کہ امریکی انٹیلی جنس اور قانون کا نفاذ کرنے والے ادارے 11ستمبر کو بن غازی میں ہونے والے حملے کی تفتیش کرنے کے لیے خطے کے ممالک کے ساتھ اپنا تعاون بڑھا رہے ہیں۔

یہ بتانے کے لیے کہ یہ حملہ مقامی یا اچانک بھڑک اُٹھنے والی نوعیت کے تشدد کا واقعہ نہیں تھا، جیسا کہ ابتدائی طور پر انتظامیہ نے بتایا تھا، اپنے بیان میں ہلری کلنٹن نے کوئی ٕمخصوص پیش کش، نیا ثبوت کا عندیہ نہیں دیا۔

اس سے قبل بدھ ہی کو لیبیا کے صدر محمد المجارف نے بھی امریکی قونصل خانے پر مہلک حملے کو منصوبہ بندی سے کیا جانے والا دہشت گردانہ حملہ قرار دیا۔

امریکی ٹیلی ویژن چینل این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مسٹر مجارف نے کہا کہ اِس حملے کا اسلام مخالف فلم کے سلسلے میں ہونے والے احتجاج سے کسی طور کوئی تعلق نہیں تھا۔
XS
SM
MD
LG