رسائی کے لنکس

اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملوں کی تحقیقات ’خوش آئند‘


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

پاکستانی پولیس ایک مذہبی رہنما سمیت نو مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کی شکایت پر توہین مذہب سے متعلق قوانین کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش کر رہی ہے

پاکستان میں اسلام دشمن ویڈیو فلم کے خلاف رواں ماہ پُرتشدد مظاہروں کے دوران کراچی میں ہندووں کے ایک مندر پر حملے میں ملوث ایک مذہبی رہنما سمیت نو مسلمانوں کے خلاف پولیس نے توہین مذہب کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔

عمومی طور پریہ قوانین اسلام کی توہین کرنے والوں کے خلاف استعمال کیے جاتے رہے ہیں مگر پہلی مرتبہ کسی اور مذہبی عقیدے کے ماننے والوں کی شکایت پر اس نوعیت کے مقدمے کا اندراج ناقدین کے بقول پاکستان میں عدم تحفظ کا شکار اقلیتی برادری کے لیے یقیناً ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔

لیکن متعلقہ تھانے کے ایک پولیس افسر کا کہنا ہےکہ اتنے دن گزرنے کے باوجود تفتیشی عمل میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے اور نا ہی ملزمان کو گرفتار کیا جاسکا ہے جس کی وجہ ان کے بقول انتہا پسندوں کے ڈر سے ہندو درخواست گزار اور عینی شاہدین تفتیشی عمل میں تعاون سے گریزاں ہیں۔

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

کراچی کے مضافاتی علاقے ہندو گوٹھ میں کے شری رام مندر پر حملہ 21 ستمبر کو کیا گیا تھا جب ملک بھر میں اسلام مخالف ویڈیو کے خلاف پُرتشدد مظاہروں میں کم از کم 21 افراد ہلاک اور دوسو سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

مظاہرین نے نجی اور سرکاری املاک کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا تھا۔

پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق ایک درجن سے زائد مشتمل افراد نے مبینہ طور پر مندر میں داخل ہو کر وہاں رادھا، ہنومان، پاروتی اور کرشنا کی مورتیوں کو تباہ و برباد کر کے ہندوؤں کی مقدس کتاب بھگود گیتا کے صفحات کو پھاڑا اور مندر کے رکھوالے کو بھی مارا پیٹا۔

توہین اسلام پر مبنی فلم کےخلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران مردان چھاؤنی میں عیسائیوں کے مرکزی چرچ کو بھی نذرآتش کردیا گیا تھا۔

مقامی پولیس نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ خصوصی کیمروں کے ذریعے بنائی گئی فلم کی مدد سے اس حملے میں ملوث چھ مشتبہ افراد کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے ان کے خلاف عدالتی کارروائی کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

ناقدین شدت پسندوں کے خلاف مردان اور کراچی میں ہونے والی کارروائیوں کو خوش آئین قرار دے رہے ہیں مگر ان کے بقول ایسے مقدمات میں مدعی اور عینی شاہدین کو تحفظ فراہم کیے بغیر موجودہ حالات میں ملزمان کو سزا دلوانا بظاہر ممکن نہیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG