رسائی کے لنکس

امریکہ: امیر افراد بھی حکومتی امداد سے فیضیاب


امداد حاصل کرنے والوں کی کثیر تعداد ایسے گھرانوں سے تعلق رکھتی ہے جن کی سالانہ آمدن ایک لاکھ ڈالر سے کم ہوتی ہے۔

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ بہت سےایسے امیرگھرانے بھی ہیں جِن سے تعلق رکھنے والےکچھ افراد، جو برسر روزگار نہیں ہیں، سرکار کی جانب سے دیے جانے والے بے روزگاری الائونس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

امریکہ میں ایک کروڑ بیس لاکھ کارکن بے روزگار ہیں جو اس عرصے کے دوران میں ریاستی اور وفاقی حکومت سے مالی امداد وصول کرتے ہیں جب وہ نئے روزگار کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ ایسے افراد کو عموماً ہر ماہ 300ڈالر ملا کرتے ہیں۔

امداد حاصل کرنے والوں کی کثیر تعداد ایسے گھرانوں سے تعلق رکھتی ہے جن کی سالانہ آمدن ایک لاکھ ڈالر سے کم ہوتی ہے۔

تاہم کانگریشنل ریسرچ سروس کی ایک حالیہ رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ ایسے میں جب 2009ء میں ملکی معاشی صورت حال بُری طرح سے کساد بازاری کے چنگل میں پھنسی ہوئی تھی، تقریباً 2400 ایسے افراد نے بے روزگاری الاؤنس وصول کیا جِن کاتعلق ایسے گھرانوں سے تھا جن کی سالانہ آمدن دس لاکھ ڈالر یا اُس سےبھی زائد تھی۔

یہ شاید اِس لیے بھی ہوا ہے کہ اُسی خاندان کے کسی فرد کو مالی اعتبار سے بہت ہی منفعت بخش ملازمت حاصل تھی۔

امریکہ میں بے روزگاری الاؤنس کے حصول کے کوائف میں کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ آمدن کی کوئی شق موجود نہیں ہے، جب کہ حکومتی پینشن کے لیے اہل ہونے کے لیے ان افراد کی عمر کم از کم 62برس ہونی چاہیئے۔

تاہم حکومت کے دائمی بجٹ خسارے کے پیشِ نظر کچھ قانون ساز ایسے افراد کو بے روزگاری الاؤنس دیے جانے کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں جِن کا امیر گھرانوں سےتعلق ہے۔ ریاست اوکلاہوما سےتعلق رکھنے والےریپبلیکن پارٹی کے ایک سینیٹر ٹام کوبرن نے اِس معاملے کو ’ مالی اصراف کا ایک مثالی معاملہ‘ قرار دیا ہے۔
XS
SM
MD
LG