رسائی کے لنکس

ہفتے اور اتوار کو بنگلہ دیش کے جنوبی مشرقی حصوں میں ہزاروں بنگالیوں نے پرتشدد مظاہرے کیے جس دوران انہوں نے بودھ عبادت گاہوں کوبھی نشانہ بنایا۔

بودھ بھکشوؤں نے بنگلہ دیش میں بودھ کمیونٹی کو تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے حالیہ واقعات کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔

بنکاک میں تقریباً دو سو بھکشوؤں نے ایک پرامن جلوس نکالا جس میں کئی بھگشوؤں نے امن اور ہم آہنگی قائم رکھنے کی اپیلوں پر مبنی بینر اٹھائے ہوئے تھے۔

جب کہ کئی ایک کے ہاتھوں میں بنگلہ دیش کی مختصر بودھ کمیونٹی کے خلاف بقول ان کے’’ اسلامی دہشت گردی‘‘ ختم کرنے کا مطالبات پر مبنی پوسٹر تھے۔

چٹاگانگ سے تعلق رکھنے والے ایک بھکشو فرا جیوتی سن بھی کو نے اقوام متحدہ سے مدد کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اقوام متحدہ بنگلہ دیش کی حکومت سے تشدد رکوانے کے لیے کہا تو وہ رک جائے گا۔

ہفتے اور اتوار کو بنگلہ دیش کے جنوبی مشرقی حصوں میں ہزاروں بنگالیوں نے پرتشدد مظاہرے کیے جس دوران انہوں نے بودھ عبادت گاہوں کوبھی نشانہ بنایا۔

یہ مظاہرے قرآن کے ایک نسخے کو نذر آتش کرنے کی ایک تصویر کے منظر عام پر آنے کے بعد شروع ہوئے ، جس کا الزام ایک بودھ پیروکار پر لگایا گیاتھا۔

بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ محی الدین خان عالمیگر نے ان مظاہروں کا الزام کٹڑ اسلامی جماعتوں اور حزب اختلاف کے کارکنوں پر لگاتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کا امن و امان تباہ کرنے کے لیے جان بوجھ کر ہنگاموں کو ہوا دے رہے ہیں۔
XS
SM
MD
LG