رسائی کے لنکس

مالی: القاعدہ کے خلاف عسکری تنظیموں کا قیام

  • واشنگٹن

رنگروٹوں کی اکثریت کا تعلق شمال کے علاقے سے ہے ۔ ان عسکری تنظیموں کے پاس ہتھیاروں اور مالی وسائل کی کمی ہے ۔ فی الحال تو ان کے پاس جو گنے چنے ہتھیار ہیں وہ انہیں تربیت کے لیے استعمال کر ر رہے ہیں۔

شمالی مالی میں اپنا دفاع آپ کرنے والی ملیشیائیں متحد ہو رہی ہیں اور نوجوان مردوں اور عورتوں کو لڑنے کی تربیت دے رہی ہیں تا کہ مستقبل میں جب شمال میں مہم شروع ہو ، تو ان سے کام لیا جا سکے ۔ ان ملیشیاؤں سے ، اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ مالی کے لوگ القاعدہ سے منسلک اسلامی انتہاپسندوں سے وہ علاقہ واپس لینے کے لیے بے چین ہیں جس پر انھوں نے اپریل میں تسلط حاصل کر لیا تھا ۔

گینڈاکوئے کی نئی نسل کے لیڈروں نے اپریل میں، اس ملیشیا کو دوبارہ منظم کیا تھا ، جب مسلح Tuareg اور اسلام پسند گروپوں نے مالی کے تین شمالی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا ۔ ان نوجوان مردوں اور عورتوں کو بہت کم وقت میں سپاہی بننے کی تربیت دی جا رہی ہے ۔

کمانڈر جبریل موسیٰ دیالو ان سابق فوجی افسروں میں شامل تھے جنہوں نے 1990 کی دہائی میں Tuareg بغاوتوں کے خلاف اپنی ملیشیا قائم کی تھی۔اپنی ملیشیا کے بارے میں ان کا کہناہے کہ یہ نوجوان محبِ وطن ہیں جو شمال کو آزاد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہیں تنخواہ یا پیسہ نہیں چاہیئے ۔ یہ حوصلہ مند ہیں اور رضاکاروں کی حیثیت سے آئے ہیں ۔ وہ لڑنے کے لیے، اور شمال کو آزاد کرنے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ دینے کو تیار ہیں۔

یہ رنگروٹ Sevare کے سرکاری کمپاؤنڈ میں رہتے ہیں جو محاذِ جنگ کے جنوب میں، مالی کی فوج کے اڈے کے نزدیک واقع ہے ۔

قریب ہی دوسری ملیشیائیں تربیت حاصل کر رہی ہیں، ان میں سے بعض کو فوجی افسر مد د دے رہے ہیں۔ یہ ملیشیائیں شمالی مالی کے سیاہ فام نسلی گروپوں پر مشتمل ہیں۔

رنگروٹوں کی اکثریت کا تعلق شمال کے علاقے سے ہے ۔ ان عسکری تنظیموں کے پاس ہتھیاروں اور مالی وسائل کی کمی ہے ۔ فی الحال تو ان کے پاس جو گنے چنے ہتھیار ہیں وہ انہیں تربیت کے لیے استعمال کر ر رہے ہیں۔

ملیشیاؤں کو ایک بار پھر میدان میں لانے سے یہ اندیشے پیدا ہوئے ہیں کہ شمال میں لڑائی ،نسلی تشدد یا آپس کی عداوتوں کو طے کرنے میں تبدیل ہو سکتی ہے، جیسا کہ 1990 کی دہائی میں ہوا تھا ۔

ایسا لگتا ہے کہ مالی میں بین الاقوامی حمایت سے شمال کی جانب کارروائی شروع ہونے والی ہے ۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ اس کارروائی میں یہ عسکری تنظیمیں کیا کردار ادا کر سکتی ہیں۔

شمال کی چھہ ملیشیائیں ایک اتحاد قائم کرلیا ہے ۔ اگرچہ ان ملیشاؤں نے اپنی الگ الگ فوجی کمانڈز قائم رکھی ہیں، لیکن ان سب کا مقصد ایک ہی ہے ۔
ان کا کہناہے کہ ہمیں اپنی فوج کے ذریعے علاقے کو آزاد کرانا ہوگا، اور پھر ہمیشہ کے لیے ان فتنہ پردازوں کو ختم کرنا ہوگا تا کہ آبادی کے مختلف طبقے، ایک بار پھر مل جل کر امن و امان سے رہ سکیں۔
XS
SM
MD
LG