رسائی کے لنکس

گرفتاریاں وادی سوات کے مختلف حصوں میں کی گئیں جہاں منگل کے روز مسلح طالبان نے ملالہ یوسف زئی کو اس وقت گولی مار دی تھی جب وہ ایک ویگن میں اسکول سے اپنے گھر واپس جارہی تھیں۔

پولیس نے 14 سالہ ملالہ پر دہشت گرد حملے میں ملوث ہونے کے شبے میں کئی گرفتاریاں کی ہیں۔

عہدے داروں کا کہناہے کہ یہ گرفتاریاں وادی سوات کے مختلف حصوں میں کی گئیں جہاں منگل کے روز مسلح طالبان نے ملالہ یوسف زئی کو اس وقت گولی مار دی تھی جب وہ ایک ویگن میں اسکول سے اپنے گھر واپس جارہی تھیں۔

ان گرفتاریوں کے بارے میں زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

طالبان کے ایک ترجمان نے وادی سوات سے جمعے کے روز بتایا کہ تنظیم کے اعلیٰ عہدے داروں نے ملالہ یوسف زئی کو ہلاک کرنے کا فیصلہ دو ماہ قبل اپنے ایک اجلاس میں کیا تھا اور اس کی ذمہ داری مسلح طالبان کو سونپ دی تھی۔

طالبان کا کہناہے کہ ملالہ مغربی خیالات رکھتی تھی ، وہ عسکریت پسندوں کو برابھلا کہتی تھی اور اس نے امریکی صدر براک اوباما کو اپنا آئیڈیل قراردیاتھا۔

ترجمان کا کہناہے کہ ملالہ کو حملے سے قبل تین مرتبہ خبردار کیا گیا تھا لیکن وہ باز نہیں آئی۔
خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق دو شدت پسندوں نے ملالہ کے متعلق تمام معلومات حاصل کئیں جس میں ان کے سکول جانے آنے کا راستہ اور آمدورفت کی تفصیلات بھی شامل تھیں، جس کے بعد ملالہ پر حملہ کیا گیا۔

جمعے کے روز جنیوا میں اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک گروپ نے پاکستانی حکومت پر زور دیا کہ وہ سکول جانے والے بچوں، بالخصوص لڑکیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات کر ے تاکہ کوئی انتہاپسند تنظیم انہیں اپنے انسانی حقوق سے محروم نہ کرسکے۔

ماہرین کاکہناہے کہ 14 سالہ ملالہ پر قاتلانہ حملہ، جو بچیوں کے علم حاصل کرنے کے حق کی آواز اٹھارہی تھیں، انتہائی تشویش ناک ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG