رسائی کے لنکس

چینی اقتدار کے خلاف ایک اور تبتی کی خودسوزی


تبت ۔ خودسوزی

تبت ۔ خودسوزی

فروری 2009 سے شروع ہونے والی خودسوزی کی اس لہر میں اب تک چین کے زیر تسلط تبتی علاقے میں 55 افراد خود کو نذر آتش کرچکے ہیں۔

تبت پر چین کے اقتدار کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایک اور تبتی باشندے نے خود سوزی کرلی۔

وائس آف امریکہ کی تبتن سروس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تامدرین ڈورجی نے چین کے شمال مغربی صوبے گانسو میں بودھ عبادت گاہ Tsoe کے قریب خود کو نذر آتش کرنے کے بعد جل کر ہلاک ہوگیا۔

خیال ہے کہ اس کاتعلق تبت کے شمال مشرقی صوبے امدو کے مذہبی گھرانے سے تھا۔

عینی شاہدوں کا کہناہے کہ خود کو آگ لگانے کے بعد اس نے دلائی لامہ کی تبت واپسی اور تبت کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔

فروری 2009 سے شروع ہونے والی خودسوزی کی اس لہر میں اب تک چین کے زیر تسلط تبتی علاقے میں 55 افراد خود کو نذر آتش کرچکے ہیں۔

بھارتی قصبے دھرم شالا میں قائم تبت کی جلاوطن حکومت کا کہناہے کہ خودسوزی کی کوشش کرنے والوں میں سے 45 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

چین کی حکومت خود سوزی کے ان واقعات کی ذمہ داری جلاوطن تبتیوں پر عائد کرتی ہے ۔ لیکن دلائی لامہ کے نمائندوں کا کہناہے کہ خودسوزی کی وجہ یہ ہے کہ تبت کے باشندے اپنے علاقے پر چین کا اقتدار اور پالیسیاں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
XS
SM
MD
LG