رسائی کے لنکس

یورپی یونین کی پابندیوں سے ایرانی معیشت پر دباؤ میں اضافہ


ایران کے ساحلی علاقوں میں سمگلر سرگرم

ایران کے ساحلی علاقوں میں سمگلر سرگرم

ایران کی معیشت، اور اقتصادی سرگرمیوں کو ، وہ چاہے قانونی ہوں یا غیر قانونی، نقصا ن پہنچ رہا ہے۔ ایران نے یورپی یونین کی پابندیوں کو غیر انسانی اور غیر مؤثر قرار دیا ہے ۔

یورپی یونین کی حکومتوں نے منگل کے روز ایران پر اس کے نیوکلیئر پروگرام کی وجہ سے سخت ترین پابندیاں عائد کر دیں۔ یورپ یونین اور امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ایران کے نیوکلیئر اسلحہ کے عزائم کو روکنے کے لیے، پابندیاں انتہائی اہم ہیں ۔ لیکن کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پابندیوں سے یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکا ہے اور ایران کی کرنسی کی قدر میں تیزی سے کمی آنے کی وجہ سے، ایران کے عام لوگوں کے مصائب میں اضافہ ہو گیا ہے ۔

ایران کی تنگ آبنائے ہرمز میں ایران کے تیز رفتار اسمگلرز سرگرم ہیں۔

وہ دو سو ہارس پاور کے انجن کی طاقتور کشتیاں استعمال کرتے ہیں اور قیمتی خوشبویات سے لے کر مویشیوں تک، اومان سے ایران تک لاتے لے جاتے ہیں۔ اس طرح وہ درآمدی ڈیوٹیوں کی ادائیگی سے بچ جاتے ہیں ۔

لیکن ایرانی کرنسی کی قدر میں جو زبردست کمی ہوئی ہے اس سے یہ غیر قانونی تجارت بھی متاثر ہوئی ہے ۔ اسمگلرز کہتے ہیں کہ یہ چیزیں خریدنا اب ایرانیوں کے بس کی بات نہیں۔

ایک نوجوان اسمگلر کا کہنا ہے، اس طرف حالات بہت خراب ہیں۔ لوگ واقعی بہت پریشان ہیں ۔ حکام کے اقدامات سے ہر شخص اور ہر چیز متاثر ہو رہی ہے ۔

یورپی یونین کے وزرا نے پیر کے روز طے کیا کہ ایران کے خلاف پابندیوں کو وسعت دی جائے اور انھوں نے منگل کو 30 سے زیادہ ایرانی کمپنیوں کی فہرست جاری کر دی جنہیں نشانہ بنایا جائے گا۔ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا نیوکلیئر پروگرام سویلین مقاصد کے لیے ہے ۔ وہ یہ بات تسلیم نہیں کرتا کہ وہ ایٹم بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے ۔

مغربی ملکوں کا کہنا ہے کہ پابندیا ں ہی ایران پر دباؤ ڈالنے اور فوجی تصادم کو روکنے کا اہم ترین طریقہ ہیں ۔ جرمنی کے وزیرِ خارجہ Guido Westerwelle کہتے ہیں کہ ہم نے طے کیا ہے کہ پابندیوں کا ایک اور پیکیج لایا جائے تا کہ دباؤ بڑھایا جا سکے اور مذاکرات کے دائرے کو، تجارت اور بنکنگ کے شعبے میں، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبے میں، زیادہ وسیع کیا جا سکے، ۔ اس کے علاوہ، ہم ایسے اقدامات پر عمل در آمد کریں گے جن کے ذریعے ان پابندیوں کو نظر انداز نہ کیا جا سکے ۔

ایران کی معیشت، اور اقتصادی سرگرمیوں کو ، وہ چاہے قانونی ہوں یا غیر قانونی، نقصا ن پہنچ رہا ہے۔ ایران نے یورپی یونین کی پابندیوں کو غیر انسانی اور غیر مؤثر قرار دیا ہے ۔

کرنسی کی گرتی ہوئی قدر کی وجہ سے تہران میں احتجاج ہوئےہیں ۔ آئی ایچ ایس گلوبل ان سائٹ میں مشرقِ وسطیٰ کی تجزیہ کار جیمی انگریم کہتی ہیں کہ ان پابندیوں سے ایرانیوں کی جیبیں خالی ہو رہی ہیں ۔ در آمدات پر پابندیوں سے بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ کھانے پینے کی اشیاء کی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ خاص طور سے رمضان کے مہینے میں یہ بات دیکھنے میں آئی۔ مثلاً مرغی کے گوشت کی قلت ہو گئی جس سے عام ایرانی متاثر ہوئے ۔ یہ مسئلہ روز بروز شدید ہوتا جائے گا۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پابندیوں سے ایران کی تیل کی صنعت پر بہت برا اثر پڑا ہے ، اور وہ اپنے تیل کے لیے نئی منڈیاں تلاش کر رہا ہے ۔

ایران کے وزیرِ توانائی، مجید نامجو گذشتہ ہفتے نئی دہلی کے دورے پر گئے اور انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بھارتی کاروباری ادارے ایران میں سرمایہ کاری کریں گے ۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح بھارت کو فائدہ ہو گا اور اس کے نجی شعبے اور نجی کمپنیوں کو ہمارے ملک سے اچھی قیمتوں پر چیزیں ملیں گی۔

ناقدین کہتے ہیں کہ پابندیوں سے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو روکنا ممکن نہیں ہوا ہے ، جب کہ ان کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی ہوئی ہے جیمی انگریم کا کہناہے کہ بر سرِ اقتدار ملاؤں، حکومت اور عوام کے درمیان سماجی نظام کی بنیاد خدمات کی فراہمی پر ہے ۔ حکومت کے لیے اسے جاری رکھنا روز بروز مشکل ہوتا جائے گا اور بالآخر دباؤ کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے ۔


سفارتی سطح پر اس مسئلے کے حل کے بہت کم آثار نظر آرہےہیں ۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یورپی یونین کی تازہ ترین پابندیوں سے ایران کی معیشت جس شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے ، وہ اور زیادہ تنگ ہو جائے گا۔
XS
SM
MD
LG