رسائی کے لنکس

قذافی کے حامیوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام

  • واشنگٹن

آزادعسکری تنظیم کا جنگجو

آزادعسکری تنظیم کا جنگجو

تازہ رپورٹ مخالف گروپوں کی طرف سے بنائی گئی ویڈیوز اور قذافی کے قافلے میں زندہ بچ جانے والے افراد کے انٹرویوز کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہاہے کہ اسے مزید ایسے شواہد ملے ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ معمر قذافی مخالف فورسز نے پچھلے سال ان کو پکڑنے اور قتل کرنے کے بعد قدافی کے درجنوں حامیوں کو بری طرح ماراپیٹا اورکئی ایک کو موت کے گھاٹ اتاردیا تھا۔

گذشتہ سال 20 اکتوبر کو قذافی اس وقت قتل ہوگئے تھے جب ان کے حامی سرت پر لڑاکا طیاروں کی بمباری اور ملیشیاء کے حملوں سے بچنے کے لیے شہر سے فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے۔

بدھ کے روز جاری ہونے والی ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ قذافی مخالف ملیشیاؤں نے ان کے قافلے میں شامل کئی لوگوں کو پکڑنے کے بعد بے رحمی سے مارا پیٹا اور بعد میں انہیں ایک قریبی ہوٹل میں لے جاکر ان میں سے 66 کو ہلاک کردیا۔

ہیومن رائٹس واچ کے ایک عہدے دار بوکیرٹ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس واقعہ کو ایک جنگی جرم کے طورپر دیکھنا چاہیے اور اس میں ملوث افراد کو سزائیں دی جانی چاہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کا کہناہے کہ اسے ویڈیوز اور اسپتال کے مردہ خانے سے ریکارڈ کی مدد سے ہوٹل میں کم ازکم 17 نعشوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔

تنظیم کا کہناہے کہ ان شواہد سے لیبیا کے عہدے داروں کے اس دعوے پر سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں کہ معمرقذافی اپنے وفادار جنگجوؤں اور عبوری حکومت کی فورسز کے درمیان گولیوں کے تبادلے میں مارا گیاتھا۔

رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پکڑے جانے کے موقع پر بنائی گئی ایک ویڈیو میں قذافی اور ان کا بیٹا معتصم زندہ دکھائی دے رہے ہیں جب کہ بعد میں ان کی نعشیں ملی تھیں۔

قدافی کی ہلاکت جن حالات میں ہوئی تھی، اس پر گذشتہ سال اکتوبر میں ہیومن رائٹس واچ نے سوالات اٹھاتے ہوئے لیبیا کے حکام سے کہا تھا کہ وہ سرت کی لڑائی میں ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر قتل کے واقعات کی تحقیقات کرے۔

تنظیم نے بدھ کی اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ ایسے کوئی آثار نہیں ہیں جو اس جانب اشارہ کرتے ہوں کہ ان الزامات کی تحقیقات جاری ہیں یا کوئی تفتیش کی گئی تھی۔

تازہ رپورٹ مخالف گروپوں کی طرف سے بنائی گئی ویڈیوز اور قذافی کے قافلے میں زندہ بچ جانے والے افراد کے انٹرویوز کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔

لیبیا کی حکومت قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد قوت پکڑنے والے عسکری گروپوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششیں کررہی ہے۔ لیبیا کی قومی اسمبلی کے سربراہ محمد المغربی نے پچھلے مہینے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ حکومت کے دائرکار سے باہر کی تمام عسکری تنظیمیں اور فوجی کیمپ تحلیل کردیے جائیں گے۔
XS
SM
MD
LG