رسائی کے لنکس

ترکی: توہین اسلام کا مقدمہ

  • واشنگٹن

ترک فن کار فضل ساج

ترک فن کار فضل ساج

فضل ساج جمعرات کو اپنے خلاف ان الزامات کے دفاع کے لیے استنبول کی ایک عدالت میں پیش ہوئے جن میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے کئی ٹوئٹر پیغامات میں اسلام کا تمسخر اڑایا تھا۔

ترکی کے ایک عالمی شہرت یافتہ فن کار کو عدالت میں ان الزامات کا سامنا ہے کہ اپریل میں ٹوئٹر پر ان کے پیغامات سےمذہبی منافرت کو ہوا ملی اور اسلام کی توہین ہوئی تھی۔

42 سالہ فضل ساج جمعرات کو اپنے خلاف ان الزامات کے دفاع کے لیے استنبول کی ایک عدالت میں پیش ہوئے جن میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے کئی ٹوئٹر پیغامات میں اسلام کا تمسخر اڑایا تھا۔

جرم ثابت ہونے پر انہیں 18 ماہ تک جیل کی سزا ہوسکتی ہے۔

ساج نے عدالت سے اپنی فوری رہائی کی اپیل کی لیکن جج نے مقدمے کی سماعت 18 فروری تک ملتوی کردی۔

ساج کا کہناہے کہ وہ یورپی یونین کے ثقافتی سفیر کے طور پر کام کرچکے ہیں اور اپنی اس حیثیت میں وہ کئی بار نیویارک اوربرلن کے میوزک گروپوں کےساتھ شریک رہے ہیں۔

ساج کے خلاف اس مقدمے نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ ترکی اظہار کی آزادی پر اپنا کنٹرول سخت کررہاہے۔

سماعت کے موقع پر کم ازکم ایک سو افراد نے مقدمے کے خلاف عدالت کے باہر مظاہرہ کیا۔

ترکی کی تقریباً ساری آبادی مسلمان ہے لیکن وہاں کا نظام حکومت سیکولر ہے۔
XS
SM
MD
LG