رسائی کے لنکس

ملالہ سہارے کے ساتھ کھڑی ہوگئیں


کوئین الزبتھ ہاسپیٹل سے ملالہ یوسف زئی کی پہلی تصویر

کوئین الزبتھ ہاسپیٹل سے ملالہ یوسف زئی کی پہلی تصویر

برطانوی اسپتال میں ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہناہے کہ ملالہ کی صحت بہتر ہورہی ہے اور ان سے لکھ کر بات کی جارہی ہے۔

ملالہ یوسف زئی کو ، جسے اس ہفتے علاج کے لیے خصوصی ایئر ایمبونس کے ذریعے برطانیہ منتقل کیا گیاتھا، جمعے کے روز پہلی بار سہارے کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑی ہوئیں۔

اس ماہ کے شروع میں سوات میں طالبان عسکریت پسندوں نے انہیں اس وقت سر میں گولی مار کر شدید زخمی کردیا تھا جب وہ ایک ویگن میں اسکول سے گھر واپس جارہی تھیں۔

برطانوی اسپتال میں ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کا کہناہے کہ ملالہ کی صحت بہتر ہورہی ہے اور ان سے لکھ کر بات کی جارہی ہے۔

سینٹرل انگلینڈ کے شہر برمنگھم میں قائم کوئین الزبتھ ہاسپٹل کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈیو روسر، ملالہ کا علاج کرنے والی ماہرین کی اس ٹیم کی قیادت کررہے ہیں ۔

اسپتال نے جمعہ کی صبح ملالہ یوسف زئی کی صحت سے متعلق اپنے اپ ڈیٹ میں کہا ہے کہ ان کی طبعیت بہتر اور مستحکم ہے، جب کہ ان کے خاندان کے افراد ابھی تک بدستور پاکستان میں ہیں۔


آئی ٹی وی ٹیلی ویژن کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسپتال ٹیلی فون پر ملالہ کی اپنے والد سے بات کرانے کے انتظامات کررہاہے، لیکن فی الحال ملالہ بولنے کے قابل نہیں ہے۔

ڈاکٹر روسر کا کہنا تھا کہ ملالہ اب بھی مصنوعی تنفس پر ہیں کیوں کہ گولی کے زخم کی وجہ سے ان کی سانس کی نالی میں انفکشن موجود ہےاور سانس کی نالی کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کے گلے سے ایک ٹیوب گذاری گئی ہے، جس کی وجہ سے وہ بات نہیں کر پا رہیں ۔ جب ٹیوب ہٹا لی جائے گی تو یقننا ً وہ بول سکیں گی۔

ڈاکٹر روسر کا کہناتھا کہ اگلے چند دنوں میں یہ ٹیوب ہٹالی جائے گی۔

ٹیلی ویژن نے اسپتال کے ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ گولی سے ملالہ کے دماغ کو کچھ نقصان پہنچا ہے لیکن یقینی طور پر وہ نقصان فزیکل نہیں ہے ۔ اصل خدشہ اس انفکشن سے ہے جو گولی کے گذرنے کے راستے پر ہے۔ جب تک انفکشن پر پوری طرح قابو پانہیں لیا جاتا، خطرات موجود رہیں گے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG